خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 797
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۹۷ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء جو شخص تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے غیر میں ایک امتیاز پیدا کر دیتا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سورة ال عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (ال عمران : ۷۷) اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔قرآن کریم کی اصطلاحی لغت میں بتایا گیا ہے کہ جب لفظ محبت کا فاعل انسان ہو اور یہ مفہوم ہو کہ انسان نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے اُس نے کوشش کی اور جب قرآن کریم میں اس لفظ کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ اللہ نے اپنے بندے سے محبت کی تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو پسند کیا اور اُس کو اپنے انعامات اور رحمتوں سے نوازا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور تقوی کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں وہ متقی ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے متقیوں سے یقیناً محبت رکھتا ہے اور اپنے انعامات اور رحمتوں سے انہیں نوازتا ہے۔اپنے عہد کو پورا کرنے کے کیا معنی ہیں؟ عہد کے معنی ہیں حفاظت اور نگہداشت اور بار بار