خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 711
خطبات ناصر جلد پنجم خطبه جمعه ۲۰ ر ستمبر ۱۹۷۴ء ہلاک نہیں کرے گا بلکہ وہ ہماری ترقیات کے اور دروازے کھولنے والا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ - أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی برکات اور اس کی رحمتیں حاصل کرنے والے ہیں۔وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ:۱۵۸) اور یہ وہ لوگ ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ ان کی انگلی پکڑ کر ان کے نیک انجام تک ان کو پہنچا دیتا ہے اور منزل مقصود تک وہ پہنچ جاتے ہیں اور انتہائی کامیابی ان کو مل جاتی ہے اور چونکہ صبر کے ساتھ آزمائشوں کا بھی ذکر ہے اس لئے ساتھ ہی یہ بھی ہمیں بتا دیا کہ فَاصْبِرُ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ (الروم :۶۱) ایک تو اصول ہے تعلیم یہ ہے کہ تم خدا کے ہو جاؤ گے اور اپنے قول اور فعل سے انا للہ کہنے والے ہو گے اور تمہارا تو گل اور تمہاری نگاہیں الیہ رجعون کی طرف ہوں گی۔آخری انجام خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو اللہ تعالیٰ سورہ روم میں فرماتا ہے کہ اگر تم استقلال سے اپنے ایمان پر قائم رہو تو اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ ضرور پورا ہوگا اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ ہمیں بھر پور وعدے دیئے ہیں جو ہماری زندگی کے ہر پہلو میں برکتوں کے وعدے ہیں اور نیک انجام کے وعدے ہیں اور ترقیات کے وعدے ہیں۔اس زمانہ میں تو خدا تعالیٰ نے اُمت محمدیہ اور اس زمانہ کے مومنوں کو اتنا ز بر دست وعدہ دیا ہے کہ ویسا وعدہ صرف صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا تھا ورنہ دنیا کی تاریخ میں نوع انسانی کو اتنی زبر دست بشارت آج تک نہیں ملی ( آج سے میری مراد اسلام سے قبل ہے ) اور اسلام کے دو حصوں پر یہ بشارت بٹی ہوئی تھی۔ایک وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت آپ کی تربیت حاصل کر کے اس وقت کی ساری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے والے بنے۔وَ اخَرِينَ مِنْهُمُ (الجمعة: ۴) اور ایک وہ دوسرا گروہ جس کا تعلق (ہمارے پہلے بزرگوں کے نزدیک بھی ) مہدی معہود علیہ السلام کے ساتھ تھا یعنی تم ! جماعت احمدیہ ( کیونکہ ہمارے عقیدہ کے مطابق مہدی آگئے ) تم سے خدا تعالیٰ نے آج وعدہ کیا ہے۔اتنی بڑی بشارت دی ہے کہ انسان اس بشارت کو دیکھ کر پھر اپنی کمزوریوں پر نگاہ کر کے کانپ اٹھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کمزور اور دھتکاری ہوئی جماعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کر دے گا اور کشفی حالت میں اور الہام میں اس