خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 696
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۹۶ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء کی ہے اس کا رد عمل ایک بچے اور حقیقی احمدی کا ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ جس سے کسی پر ظلم وارد ہو۔ظلم کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَحَلَّه کی چیز کا غیر محل میں رکھ دینا یعنی مناسب حال کام نہ کرنا بھی ظلم میں شامل ہے۔ظلم کے معنی مفردات امام راغب کی رُو سے حق تلفی کرنا ہوتے ہیں گو یا ظلم کے معنی میں حقوق کو تلف کر دینا اور حق کے معاملہ میں تجاوز کی راہ کو اختیار کرنا شامل ہے۔امام راغب نے مزید لکھا ہے کہ جب ظلم کا لفظ گناہ کے معنوں میں استعمال کیا جائے تو اس معنی کے لحاظ سے وہ گناہ کبیرہ پر بھی استعمال ہوتا ہے اور گناہ صغیرہ پر بھی استعمال ہوتا ہے یعنی حق سے چھوٹے سے چھوٹا تجاوز بھی ظلم ہے اور بڑے سے بڑا تجاوز بھی ظلم ہے۔اس میں چھوٹے بڑے کا کوئی فرق نہیں ہے۔پھر انہوں نے لکھا ہے کہ ظلم کی تین قسمیں کی گئی ہیں۔بَيْنَ الْإِنْسَانِ وَبَيْنَ اللہ انسان کے جو تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہیں ، ان میں ظلم ہو جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے جو حقوق ہیں۔انسان ظالم بن کر انہیں ادا نہیں کرتا۔(پس) اس ظلم کی ایک بھیا نک تو جیہہ یہ ہے کہ انسان پر اللہ تعالیٰ کے جو حقوق ہیں ، وہ ادا نہیں کئے جاتے۔وہ حقوق اس معنی میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی انسان کی ضرورت ہے۔وہ تو خالق اور مالک ہے اس نے دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے وہ صد اور غنی ہے اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں ہے۔وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ہر چیز اس کی ملکیت ہے۔ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے لیکن اس کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے جب خدا تعالیٰ کی یہ دو تین صفتیں ہمارے سامنے آتی ہیں تو خدا تعالیٰ کی (ان) صفات کی یہ شکل بنتی ہے کہ اس نے ہر چیز کو پیدا بھی کیا۔وہ ہر چیز کا مالک بھی ہے لیکن وہ صدر اور غنی بھی ہے اس لئے اسے کسی چیز کی حاجت نہیں۔اس نے اپنی حکمت کا ملہ سے جو کیا وہ کیا مگر اسے کسی چیز کی احتیاج اور ضرورت نہیں تھی اسے ضرورت نہ تھی کہ انسان اس کی حمد کرتے ، اس کی تسبیح کرتے ، اس کے شکر گزار بندے بنتے ، اس کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاتے یعنی مظہر صفات الہیہ بنتے اور تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللہ کا نظارہ دکھاتے۔غرض خدا تعالیٰ کو دنیا کی کسی چیز کی احتیاج نہیں ہے احتیاج تو ہمیں ہے لیکن حقوق اللہ کی ادا ئیگی کا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کا حق ہے۔