خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 694 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 694

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۹۴ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء ہے اس کی تو چمکتی ہوئی اشکار ہر زمانے میں ظاہر ہوتی رہی ہے اس کی ذات کے متعلق بھی اور صفات کے متعلق بھی۔اُمت محمدیہ میں ایسے کروڑوں بزرگ پیدا ہوئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا عرفان حاصل کیا اور خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات کی کیفیت اور ماہیت انہیں بتائی۔( جہاں تک انسان کو اس کی ضرورت تھی ) پس جب یہ ہمارا دعویٰ ہے اور اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے اور یقیناً یہی ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لا کر ہم نے اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات کے ساتھ پہچانا ہے تو پھر آپ کو سمجھانے کے لئے دلیل میں نے پہلے دے دی ہے، اگر یہ درست ہے اور یہ درست ہے اور اگر اس کے نتیجہ میں ایک احمدی کے دل میں اپنے رب کریم کے لئے ایک محبت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کے معنی ہیں کہ وہ ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ میرا محبوب خدا مجھ سے کہیں ناراض نہ ہو جائے۔یہ خشیت کا مقام ہے اور وہ ہر وقت اس امید میں رہتا ہے کہ میرا پیارا خدا میری طرف محبت کی نگاہ سے دیکھے گا۔گویا یہ محبت کے دو پہلو ہیں اور یہ ہر دو پہلو ہر مخلص احمدی کے دل میں پہلو بہ پہلو کھڑے ہوئے ہیں تو پھر یہ دلیل یا ایک احمدی کی زندگی کی جو حقیقت ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ ان حالات میں اصولی طور پر ہمارا رد عمل کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے۔جو نہیں ہونا چاہیے اس کے متعلق میں آج صرف دو باتوں کولوں گا۔قرآن کریم احکام کی کتاب ہے یہ اسلامی شریعت اور ہدایت ہے اس میں بیان ہونے والے احکام کو ہماری اصطلاح میں دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک اوامر ہیں اور دوسرے نواہی ہیں، کچھ کرنے کی باتیں ہیں اور کچھ سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے گویا کچھ باتیں ایسی ہیں جو کرنی چاہئیں اور کچھ ایسی ہیں جن سے بچنا چاہیے۔پس جہاں تک نواہی کا تعلق ہے قرآن کریم نے ہمیں کئی جگہ بتایا ہے کہ اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہو جائے گا۔یوں کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو نہیں پاسکو گے۔اس قسم کا فعل صادر ہوا تو تم پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا۔یہ کام کیا تو خدا تعالیٰ سے دوری پیدا ہو جائے