خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 44
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۳ء اس کی قدر نہ پہچانتا تھا آج ساری دنیا میں اُس کی آواز گونج رہی ہے اور اُسی کی آواز گونج رہی ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں جو اس طرح ساری دنیا میں گونج رہی ہو۔پس ان بچوں کو جو ہمارے لعل ہیں اور جن کی مثال ہیرے جواہرات سے دی جاتی ہے بلکہ جو جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی وجود ہیں ان کو ان کا مقام پہچاننے میں مدد یا کرو اور ان واقعات کو اپنے گھروں میں بار بار دہرایا کرو۔انسان بھول جاتا ہے وہ بعض دفعہ میں دن کی بات بھی بھول جاتا ہے غرض جتنی کسی ذہن میں کسی بات کی اہمیت کم ہوتی ہے اتنی جلدی وہ اُسے بھول جاتا ہے۔اب مثلاً ننانوے فیصد دوست یہاں ایسے ہوں گے جن کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ کل دو پہر انہوں نے کیا کھایا تھا کیونکہ ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔اس وقت انہوں نے کچھ کھایا اور اپنی بھوک کا مداوا کر لیا اور وہ کھانا ان کی جسمانی طاقت کو قائم رکھنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں لیکن جو ہماری روح کی غذا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش اور اس کی رحمتوں کا نزول اس کو تو ہم نہیں بھول سکتے یعنی ایک طرف تو ہماری جسمانی غذا کے چند بے اہمیت لقمے ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کے پیار کے جلوے کہ جن سے زیادہ اہمیت رکھنے والی کوئی چیز نہیں اور ان کے درمیان دوسری چیزیں ہیں جتنی کسی چیز کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ وہ یاد میں رہتی ہے اگر کسی کے دماغ میں کوئی بات نہ ہو جس کے لئے ذکر کا حکم ہے تو وہ اسے یاد کس طرح رکھ سکتا ہے؟ مثلاً ایک بچہ ہے اس کے ذہن میں تو وہ واقعہ موجود ہی نہیں جو اس کی پیدائش سے پہلے یا اس کے شعور سے قبل واقع ہو چکا۔چنانچہ سینکڑوں، ہزاروں بلکہ بے شمار ایسے واقعات ہیں ،ایسے حقائق زندگی ہیں جن میں سے ہر حقیقت زندگی اللہ تعالیٰ کے پیار کا ایک جلوہ ہمارے سامنے رکھتی ہے اور اس میں تیزی اور شدت پیدا ہورہی ہے۔ظاہر میں تو شدت ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شدید القوی ہے لیکن اس دنیا میں قبولیت کے لحاظ سے بھی اس کے اثر میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔ایک فرد واحد تھا جس کو کہا گیا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤ نگا جس کو کہا گیا تھا کہ اس کثرت سے تیری طرف خلائق کا رجوع ہوگا کہ راستے ہموار نہیں رہیں گے۔اس کے علاوہ اور