خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 579
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۹ خطبہ جمعہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء اللہ تعالیٰ کی شان ہے لیکن آپ کی برات اس سے نہیں ہوتی جتنے بھی اس جھگڑے میں شامل ہوئے۔انہوں نے غلطی کی اور سوائے نفرت اور مذمت کے اظہار کے ان کے اس فعل کے خلاف ہم کچھ کر نہیں سکتے ، نہ امام جماعت احمدیہ اور نہ جماعت احمد یہ۔اس لئے انہوں نے تو غلطی کی اور چونکہ وہ دشمن کی سوچی سمجھی تدبیر تھی اور ایک نہایت بھیانک منصو بہ ملک کو خراب اور تباہ کرنے کے لئے بنایا گیا تھا اب اس میں آپ کا ایک حصہ شامل ہو گیا اور اب ملک کے ایک حصہ میں آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس رنگ میں ہوا دی جارہی ہے کہ یہ شدت اختیار کرے گی۔یہ آگ جہاں لگی ہے وہاں ۱۹۵۳ء کی آگ سے زیادہ شدید طور پر لگی ہوئی ہے۔اس وقت حکومت وقت زیادہ تدبر اور زیادہ انصاف سے کام لے رہی تھی۔اس وقت جو رپورٹیں آرہی ( ہیں ) اگر وہ درست ہیں تو ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکومت وقت نہ تدبر سے کام لے رہی ہے اور نہ انصاف سے کام لے رہی ہے۔بہر حال یہ تو تحقیق کے بعد ہی پتہ لگے گا لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جن حصوں میں آگ لگی ہے وہاں ۱۹۵۳ء سے زیادہ شدت کے ساتھ اس فساد کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بعض احمدیوں کے دلوں میں گھبراہٹ بھی پیدا ہوسکتی ہے۔میں حقیقت بیان کرنے کے لئے یہ کہتا ہوں ورنہ میرا یہ کام نہیں تھا کہ میں یہ بتاؤں کہ ان کو کیا کرنا چاہیے۔جو سیاستدان ہیں ان کو اپنا مفاد خود سمجھنا چاہیے۔اگر نہیں سمجھیں گے تو دنیا میں حکومتیں آتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں۔میری اس سے کوئی غرض نہیں میں تو مذہبی آدمی ہوں۔نصیحت کرنا میرا کام ہے ان کو بھی ایک رنگ میں نصیحت کر دی ، سمجھنا نہ سمجھنا ان کا کام ہے لیکن اصل چیز میں آپ کے سامنے اول یہ لانا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے بھی غلطی کی غلطی کی ہے اور ہمیں اس چیز کو تسلیم کرنا چاہیے۔دوسرے یہ کہ صرف انہوں نے غلطی نہیں کی بلکہ انہوں نے اپنی ناسمجھی کے نتیجہ میں دشمن کے ایک سوچے سمجھے منصوبہ میں شمولیت کی اور جماعت کے لئے بھی پریشانی کے سامان پیدا کرنے کے موجب بنے اور ملک کے لئے بھی کمزوری کا سامان پیدا کرنے کا موجب بنے۔میں سمجھتا ہوں اور میں انہیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کم از کم دس ہزار مرتبہ استغفار کریں اور توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگیں۔جو بھی اس معاملہ میں