خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 522

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۲۲ خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۷۴ء ہم ان کا صحیح اور پورا استعمال کر سکیں۔اس تفسیر کی روشنی میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے یہ معنی ہیں۔پھر وَايَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی کہ بتدریج ارتقا کا قانون اس مادی دنیا میں ہمیں نظر آتا ہے اور کسی منزل کو بھی آخری منزل سمجھ کر تسلی پا جانے کی فطرت ہمیں تو نے دی نہیں اس لئے ہر منزل پر پہنچ کر اگلی منزل کی تلاش دل میں پیدا ہوتی ہے اور تیری محبت کی جس منزل پر بھی ہم پہنچے ہوتے ہیں اُس سے زیادہ کے حصول کی خواہش ہمارے دل میں مچلتی ہے اس لئے ہر منزل جس تک ہم پہنچیں ( ان طاقتوں اور کوششوں اور تدابیر کو انتہا تک پہنچا کر ان طاقتوں کے ذریعہ جو تو ہمیں دے چکا ہے یعنی اپنی انتہائی کوشش کے نتیجہ میں ) وہ تیری پیدا کردہ فطرت کے مطابق ہماری آخری منزل نہیں بلکہ اگلی منزل کی خواہش پیدا ہوتی ہے جس کے لئے پہلے سے زیادہ قوت اور طاقت کی ضرورت ہے اور جب تیری توفیق سے اپنی طاقتوں کا صحیح اور پورا استعمال کر کے ہم ایک جگہ پہنچیں تو پھر ہماری دعا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں مزید طاقتیں عطا کر۔چنانچہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اس طرف اشارہ ہے اور اس طرح پر یہ صراط مستقیم جو ایک معنی میں منزل به منزل انسان کی خوشیوں کے سامان بھی پیدا کرتا ہے اور دوسرے معنی میں ہر منزل اگلی منزل کی نشاندہی کرتی ہے اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو مزید حاصل کرنے کی جو خواہش دل میں مچلتی ہے اُس کے لئے مزید طاقتوں کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں دعا سکھائی۔پس صرف یہ نہیں کہا کہ ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ صراط مستقیم کی ہدایت ملنے کے بعد بھی بعض بد قسمت راہ راست کے کنارہ پر گر کر مر جاتے ہیں اور ان کا جسم اور رُوح سرگل جاتی ہے اور تعصب اُن میں پیدا ہو جاتا ہے۔آخر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی میں ہمیں یہ نظارہ نظر آیا کہ بعض ایسے بدقسمت تھے جن کو یہ کامل اور مکمل ہدایت ملی یعنی قرآنِ عظیم کی شریعت اور جن کو ایک بہترین اُسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ملا اُ نہوں نے اس کو ایک حد تک پہچانا اور اس سے فائدہ حاصل کیا اور ایک وقت کے بعد وہ مرتد ہو گئے۔پس صراط مستقیم کے کنارے پر ان کی رُوحانی یا بعض دفعہ رُوحانی اور جسمانی ہلاکت واقع ہوئی۔پس محض صراط مستقیم کا عرفان حاصل کر لینا کافی نہیں یعنی اس ہدایت کا مل جانا کہ یہ سیدھا راستہ ہے