خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 485
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۸۵ خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۷۴ء جس شخص میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا احساس اور اس سے محبت پائی جائے وہ کبھی نا کام نہیں ہوسکتا خطبه جمعه فرموده ۸ / مارچ ۱۹۷۴ء بمقام مسجد دارالذکر۔لاہور تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ایک لمبے عرصہ کے بعد میں یہاں آیا ہوں اور اب میری نظر میں یہ مسجد بہت چھوٹی لگتی ہے۔شاید اسے اور بڑھانے کی ضرورت پڑ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کی تعداد میں بھی اور جماعت کے اموال میں بھی اور جماعت کی کوششوں میں بھی پہلے سے کہیں زیادہ برکتیں ڈال رہا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میری سرشت میں نا کامی کا خمیر نہیں ہے۔آپ کے اس فقرہ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ فطرت اور وہ سرشت جس میں ناکامی کا خمیر نہ ہو ، وہ اسلامی تعلیم کے مطابق کن صلاحیتوں کی مالک ہونی چاہیے یعنی جب حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے تو جماعت کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ وہ کون سی صلاحیتیں ہیں جو ہمیں اپنانی چاہئیں ، جس کے بعد نا کامی کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے۔جب ہم اس بارے میں غور کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ صرف اسی فطرت اور سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہوتا جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کی