خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 427
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۲۷ خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۷۴ء جلوہ گر ہوگا۔اور اگر چہ یہ الفاظ اس عظیم ہستی جو ہمارا رب اور ہمارا خالق و مالک ہے کے لئے اس معنی میں استعمال نہیں ہو سکتے جس معنی میں ہمارے اپنے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن تمثیلی زبان میں یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی استعمال کر دیتے ہیں کہ ہمارا رب بھی بڑا خوش ہوگا کہ اُس کے بھٹکے ہوئے بندے اس کی طرف واپس آگئے۔پس اس اعلان کے ساتھ میں وقف جدید کے نئے سال کی ابتدا کا اعلان کرتا ہوں اس امید پر کہ جماعت ایک لاکھ روپیہ زائد چندہ اس وقف جدید کے انتظام کو دے گی اور اس ہدایت کے ساتھ کہ وقف جدید والے اس کا بڑا حصہ اُس علاقے میں خرچ کریں گے جہاں ہندو بستے ہیں اور اس وقت ان کی توجہ اسلام کی طرف ہے اور اس تو کل اور اُمید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس کوشش کو قبول کرے گا اور ان اُچھوتوں پر رحم کرے گا جن کو اُن کے اپنے مذہب والوں نے دھتکار دیا اور جن کو اپنی آغوش میں لینے کے لئے اسلام اپنے بازو پھیلائے ان کی طرف بڑھ رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے سائے کے نیچے انہیں یہ جماعت لانا چاہتی ہے۔خدا کرے کہ ہمیں اس کی راہ میں اس مد میں بھی خرچ کرنے کی توفیق ملے اور خدا کرے کہ ہماری یہ حقیر کوشش اس کے حضور قبول ہو اور خدا کرے کہ اس کے نتائج بہت ہی شاندار نکل آئیں اس سے زیادہ شاندار جتنی ہماری قربانیاں ہیں جیسا کہ ہمارے ساتھ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک رہا ہے۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۷ / جنوری ۱۹۷۴ء صفحه ۲ تا ۴)