خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 364
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۶۴ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۳ء میں برکت ڈالی اور ان کا اثر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور مریض ان کی طرف کھنچے چلے آئے اور تبلیغ کے مواقع پیدا ہو گئے۔پس جو ہمارا کام ہے وہ ہم نے خود کرنا ہے جو فرشتوں کا کام ہے وہ وہی کریں گے۔کیونکہ ان کے متعلق تو کہا گیا ہے کہ وہ انکار کر ہی نہیں سکتے۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) جو حکم ہو اس کی پابندی کرتے ہیں۔انسان کو یہ آزادی دی ہے کبھی وہ بغاوت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھے کبھی وہ غفلت اور ستی برتا ہے انسان اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہے لیکن بہر حال اپنے کام ہم نے کرنے ہیں کسی اور نے آکے نہیں کرنے۔پس اس کے لئے تیار رہنا چاہیے۔اور پھر اہل ربوہ کو میں مختصراً کہتا ہوں کہ جلسہ آ رہا ہے۔جلسہ کے لئے تیاری کرو ربوہ کو صاف ستھرا بنا کے اور اپنے چہروں کو پہلے سے بھی زیادہ اس بات کی عادت ڈال کر کہ آنے والوں کا استقبال بشاشت اور مسکراہٹوں کے ساتھ اہل ربوہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ اہل ربوہ کو بشاشت اور مسکراہٹ کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ پہلے سے بھی زیادہ کثرت کے ساتھ باہر سے آنے والوں کو بھی اس بشاشت اور ان مسکراہٹوں کے وصول کرنے کی توفیق دے۔آمین از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )