خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 346

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۶ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء زمانہ تک ختم نہیں ہوچکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔اور میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔اور یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ اگر دوسرے معنی بھی ہوں تو ان دونوں معنوں میں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایت قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہوتا ہے بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نور مل کر عظمت فرقانی کی روشنی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطبع محرک ہے لہذا اس کا نئے پیرا یہ میں ہو کر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنصۂ ظہور لا نا نئے نئے بدعات اور محدثات کو دکھلانا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑا ہوا ہے اب اس حالت میں ایسی کتاب جو خاتم الکتب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اگر زمانہ کے ہر یک رنگ کے ساتھ مناسب حال اس کا تدارک نہ کرے تو وہ ہر گز خاتم الکتب نہیں ٹھہر سکتی اور اگر اس کتاب میں مخفی طور پر وہ سب سامان موجود ہے جو ہر یک حالتِ زمانہ کے لئے درکار ہے تو اس صورت میں ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن شریف بلا ریب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضرورات لاحقہ کا کامل طور پر متکفل ہے۔اب یہ بھی یادر ہے کہ عادت اللہ ہر یک کامل ملہم کے ساتھ یہی رہی ہے کہ عجائبات مخفیہ فرقان اس پر ظاہر ہوتے رہے ہیں۔66 پھر آپ فرماتے ہیں :۔یہی زمانہ ہے کہ جس میں ہزار ہا قسم کے اعتراضات اور شبہات پیدا ہو گئے ہیں اور انواع اقسام کے عقلی حملے اسلام پر کئے گئے ہیں۔اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِنْ مِّنْ شَيْءٍ الا عِنْدَنَا خَزَايِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوم (الحجر : ۲۲) یعنی ہر یک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر معلوم اور بقدر ضرورت ہم ان کو اتارتے ہیں۔سوجس قدر معارف و حقائق بطونِ قرآنِ کریم میں چھپے ہوئے ہیں جو ہر یک قسم کے ادیان فلسفیہ و