خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 315
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۱۵ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء خَيْرَ أُمَّةٍ کی بنیادی صفت یہ ہے کہ اُس کا ہاتھ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ہرگز نہ پھیلے خطبه جمعه فرموده ۲۶ /اکتوبر ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے سورہ آل عمران کی آیہ کریمہ کا یہ حصہ پڑھا:۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ - (آل عمران: ۱۱۱) پھر حضور انور نے فرمایا:۔ویسے تو مومن کی زندگی کا ہر لمحہ ہی دعاؤں میں مشغول رہنا چاہیے لیکن بعض ایام ( مثلاً رمضان اور اس میں بھی آخری عشرہ ) کو قبولیت دعا سے خاص نسبت ہے۔جب قربانیاں زیادہ مانگی جاتی ہیں تو قبولیت دعا کی بشارتیں بھی زیادہ دی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے بھی زیادہ کھولے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل موسلا دھار بارش سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ آسمانوں سے نازل ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے عاجز بندوں کی روحانی سیری کا سامان پیدا کرتا ہے۔میں نے اپنے ایک پہلے خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ رمضان کا مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے اس لئے میں نے اپنی جماعت کو بہت سی دعاؤں کی طرف توجہ دلائی تھی۔آج ماہِ رمضان کا آخری جمعہ