خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 187 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 187

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۸۷ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۳ء ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم كافةً لِلنَّاسِ یعنی تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث ہوئے خطبه جمعه فرموده ۲۵ رمئی ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه تشہد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج صبح شدید دورانِ سر ( چکروں) کی تکلیف شروع ہوگئی تھی اب نسبتا فرق محسوس کیا ا چند منٹ کے لئے آ گیا ہوں کیونکہ میرے دل نے غیر حاضر رہنا قبول نہیں کیا۔اس وقت میں مختصراً ایک بنیادی اور اہم خوشخبری کے متعلق چند فقرات کہنے پر اکتفا کروں گا۔اللہ تعالیٰ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اُمت محمدیہ پر بڑا ہی مہربان ہے چنانچہ اس نے سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَبْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا سکھائی۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جو دعائیں سکھاتا ہے ان کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان میں یہ بشارت ہوتی ہے که اگر انسان شرائط دعا پوری کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر دعا قبول ہوگی کیونکہ کوئی دعا ایسی نہیں سکھائی جاتی جس کے متعلق ساتھ ہی یہ اعلان بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا کیونکہ اس طرح تو یہ عقلاً بھی ایک لغو فعل بن جاتا ہے جب کہ لغو فعل سے مجتنب رہنے کی خود خدا نے ہمیں تلقین فرمائی ہے اس لئے وہ خدا جو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اس کی طرف یہ بات منسوب نہیں کی جاسکتی۔