خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 165
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶۵ خطبہ جمعہ ۱۱رمئی ۱۹۷۳ء نہ صرف وہ بقا یا صاف ہو گیا بلکہ اڑتیس ہزار کے قریب زائد آمد ہوئی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - یہ سال بھی دراصل کئی لحاظ سے ہنگامی سال تھا۔اس سال مختلف وقتوں میں کالج وسکول قومیائے گئے یعنی حکومت نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔کچھ عرصہ ہوا میں نے رپورٹ منگوائی تھی صحیح اعداد و شمار تو مجھے یاد نہیں لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے تعلیمی ادارے (سکول اور کالج ) شروع میں اپنی آمد یعنی فیس وغیرہ کے مقابلہ میں خرچ زیادہ کروا دیتے رہے ہیں۔فیس اور دوسرے واجبات کا جہاں تک تعلق ہے یہ زیادہ تر عادتاً ( قانو نا نہیں ) سال میں دو تین موقعوں پر زور دے کر وصول کئے جاتے ہیں لیکن چونکہ شروع سال میں بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں مثلاً کھیلوں کا سامان اور دوسری چیز میں خریدنی پڑتی ہیں ان پر خرچ کر دیئے ہیں اگر چہ وہ یونین فنڈ ہوتا ہے لیکن وہ خرچ جو صدر انجمن احمد یہ اٹھاتی تھی۔وہ اُنہوں نے زیادہ تر شروع میں کرنا ہوتا ہے اس لئے خرچ تو بہت سارے ہو گئے جو شروع میں ہو جاتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں فیسوں کی آمد کم ہوئی۔سکولوں اور کالجوں پر آٹھ نو لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے تھے ان کے قومیائے جانے کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو آٹھ نو لاکھ روپے کی بچت ہونی چاہیے تھی مگر اس کی بجائے غالباً دولاکھ چالیس پینتالیس ہزار روپے کی رقم بچی۔باقی شروع میں ہی جماعت کے تعلیمی اداروں پر خرچ ہو گئی تھی۔دوسرے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس وقت تک ہمارے صوبہ کے وزیر تعلیم اپنے آپ کو جماعت کے تعلیمی اداروں کا سگا باپ نہیں سمجھتے اس لئے کہ انہیں یہاں کے تعلیمی اداروں کی بعض ضروری چیزوں کی طرف توجہ ہی نہیں ہے۔ہمارے بعض ایسے کام تھے جن پر ہم نے حکومت کی تحویل میں چلے جانے کے باوجود اس لئے رقم خرچ کی کہ اینٹیں اور شہتیر تو حکومت نے لے لئے لیکن انہوں نے بچوں کی گردنوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول نہیں کی مثلاً ہائی سکول کا بورڈنگ ہاؤس خستہ حالت میں تھا۔جماعت نے اس کی مرمت کے لئے غالباً پچاس ہزار روپے منظور کئے ہوئے تھے چنانچہ بورڈنگ کی چھتیں وغیرہ تبدیل کرنے پر خرچ کیا گیا۔اب اگر جماعت یہ کام نہ کرتی تو کسی نے توجہ ہی نہیں دینی تھی۔ابھی تک کسی کو ہوش ہی نہیں۔شاید ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ