خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 120

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۲۰ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء اختیارات اور ان کے آپس کے تعلقات اور مرکز کے ساتھ ان کے روابط کو آئینی شکل دی جاتی ہے۔پھر جس طرح علاقے علاقے کے تعلقات قائم ہوتے ہیں اسی طرح سارے افراد کے باہمی تعلقات بھی بہت سے پہلوؤں سے قائم کئے جاتے ہیں۔مثلاً قانون کی حکومت ہے۔یہ دستور کا کام ہے کہ وہ یہ کہے کہ کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو گروہ، گروہ کے درمیان افتراق اور تمیز پیدا کرنے والا ہو۔قانون کی حکومت سب پر یکساں ہوگی۔قانون کا تحفظ سب کو حاصل ہوگا۔اس حد تک اس کا تعلق دستور سے ہے اس سے آگے مقننہ کا کام ہے وہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔اب باہمی تعلقات کے استوار کرنے میں بھی بعض دفعہ غلطیاں ہو جاتی ہیں۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے جہاں ہمیں کوئی کمزوری یا خامی نظر آرہی ہے یا جہاں ہمیں تو کوئی کمزوری یا خامی نظر نہیں آرہی مگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ موجود ہے تو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے قوم کو اس قسم کی ساری کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطہ زمین پر رہائش رکھنے والے لوگوں کے لئے جو ترقیات مقدر کی ہیں وہ ان کے حصہ میں آئیں۔قوم نے ایک لمبا عرصہ پریشانیوں میں گذارا ہے۔خدا کرے اب اسے اس قسم کی یا کوئی دوسری پریشانیاں دیکھنی نہ پڑیں۔اس سلسلہ میں ایک دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔گوان کا بلا واسطہ دستور کے ساتھ تعلق نہیں لیکن ان کا اظہار ضروری ہے۔اسلام نے بنیادی طور پر دو حقوق قائم کئے ہیں۔ایک کو ہم حقوق اللہ کہتے ہیں اور دوسرے کو حقوق العباد۔قرآنِ کریم نے حقوق اللہ کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان حقوق کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔پھر اب اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں ہمیں بتایا ہے کہ حقوق اللہ کیا ہیں۔ان کی دائیگی سے کیا مراد لی جاتی ہے۔یہ ایک بہت لمبا مضمون ہے۔دراصل ساری دنیا اسی مضمون سے تعلق رکھتی ہے۔تاہم اس مضمون کی بعض باتیں یہ ہیں کہ انسان اپنے وجود، اپنی قوتوں اور استعدادوں کے متعلق یہ یقین رکھتا ہو کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔مزید برآں خدا تعالیٰ کی اطاعت کی