خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 782
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۸۲ خطبہ جمعہ ۸ / نومبر ۱۹۷۴ء کے لئے جیتنا ہے جو اصل غرض ہے۔ہماری یہ غرض تبھی پوری ہو سکتی ہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں متعدد آیات میں بیان ہوا ہے اُن میں سے چند ایک کا میں نے انتخاب کیا ہے جو اس وقت میں نے بیان کی ہیں یہ ولایت کا تعلق کہ ہم میں سے ہر شخص خدا تعالیٰ کا ولی بن جائے اور اللہ اُس کا ولی بن جائے ، یہ تعلق پیدا ہو جائے کہ ہم میں سے ہر ایک کے اور خدا کے درمیان ایک ذرہ بھی جگہ نہ رہے جہاں غیر اللہ کے داخل ہونے کا امکان رہ جائے ، جہاں شیطانی وسوسہ ( جو ذرہ سے بھی بار یک جگہ میں چلا جاتا ہے ) اور اُس کے اندر داخل ہونے کا سوال پیدا ہو۔پھر شیطانی حملوں سے ہر طرح محفوظ ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حُسن و احسان کے جلوے ہر دم اور ہر آن اپنی زندگی میں وہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس کی طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب مہدی نے آپ لوگوں کو اور مجھے بلایا۔یہ وہ زندگی ہے جس کی طرف قرآنِ کریم نے یہ کہہ کر بنی نوع کو مخاطب کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہو اس لئے کہ وہ تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہیں زندہ کر دے ہر وہ زندگی ہر وہ حیات جس میں خدا اور بندے کے درمیان بعد اور ہجر پایا جاتا ہے، دُوری پائی جاتی ہے وہ زندگی زندگی نہیں ہے۔زندگی اپنے کمال کو تبھی پہنچتی ہے جب بندے اور خدا کے درمیان کوئی فرق نہ رہے اور اس لئے اس غرض کی خاطر مہدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( جنہیں پہلوں نے محمد مہدی بھی کہا ہے انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا۔اپنی طرف نہیں بلایا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا تا کہ آپ حقیقی حیات اور زندگی پائیں تا کہ آپ کی وجہ سے اور آپ کی کوششوں اور تدبیر اور دعاؤں کے نتیجہ میں تمام بنی نوع انسان حقیقی حیات اور زندگی حاصل کریں۔خدا کرے کہ ہمیں اپنے مقام کی سمجھ اور معرفت حاصل ہوا اور کبھی بھی ہم اُس غرض کو جس کے لئے ہمیں اجتماعی طور پر پیدا کیا گیا اور اکٹھا کیا گیا ہے، نہ بھولیں اور ہماری نظر سے یہ مقصد اوجھل نہ ہو۔اور خدا کرے کہ حقیقی معنی میں اور سچ مچ خدا تعالیٰ کے ولی بن جائیں اور خدا تعالیٰ اُس کے نتیجہ میں ہمار ا ولی ہو جائے۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۲۵ جنوری ۱۹۷۵ ء صفحه ۲ تا ۶ )