خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 59 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 59

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹ خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء پہنچانے کے لئے انسان کی ایذا دہی کے لئے ، انسان کو قتل کرنے کے لئے ، انسان کا گلا گھونٹنے کے لئے ، انسان کی نورانیت کو اندھیروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کے لئے۔یہ تو اسلام نہیں سکھاتا۔اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو مسلمان اس لئے بنایا ہے اور اس لئے ہدایت نازل کی ہے کہ وہ اس ارادہ کے ماتحت رہتے ہوئے اپنی تمام قوتوں ک تسخیر عالمین کے لئے استعمال کرے اور اس استعمال کی جو غرض ہے اس غرض کو بھی سامنے رکھے اور وہ ہے حقوق العباد کی ادائیگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار فرمایا ہے کہ اسلام کا خلاصہ حقوق اللہ کی ادائیگی اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہی قائم کئے ہیں۔انسان کو اتنی سمجھ بوجھ نہیں کہ وہ حقوق العباد قائم کر سکے لیکن اسلام نے انہیں کھول کر بیان کر دیا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کے قائم کر دہ حقوق العباد کو قائم کرنا ضروری ہے۔اس طرح اعتقادا اور عملاً اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دینا اُسے سونپ دینا اپنی ساری خواہشات اور ارادے اپنی انتہائی ہمت اور اپنے عزم کو اس کی منشا کے مطابق کر دینا حقیقی اسلام ہے یعنی انسان کہے کہ اے میرے خدا میں وہی خواہش کروں گا جو تیری خواہش ہوگی میں وہی کام کروں گا جو تیری منشا ہوگی۔اعتقاد کے بعد عمل شروع ہوتا ہے۔اگر اعتقاد صیح ہے تو عمل صحیح ہو گا اور اعتقاد غلط ہے تو عمل بھی غلط ہوگا۔گو یا عملاً بھی خود کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی قو تیں عطا کی ہیں ان کو استعمال کرنا چاہیے جو شخص استعمال نہیں کرتا وہ بھی خدا سے دور چلا جاتا ہے کیونکہ خدا اسے انعام دینا چاہتا ہے مگر وہ کہتا ہے میں نہیں لیتا۔یہ تو شوخی کرنے ، استکبار کرنے اور اباء کرنے کے مترادف ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر انسان کو اس بات کا مکلف ٹھہرایا ہے کہ اس نے جو طاقت اسے دی ہے وہ اس کا استعمال کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔جنگلوں میں جا کر اس کا نام جپنا یہ تو انسان کے سپردنہیں کیا گیا۔اس کو خدا تعالیٰ نے طاقت دی یہاں تک کہ اس نے کہا کہ انسان چاند پر کمند ڈال سکتا ہے اور ڈال رہا ہے اور چاند تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکا ہے لیکن اس کوشش کے نتیجہ میں سیٹلائٹ تو بنالیا مگر عجیب مضحکہ خیز باتیں کرنے لگ گئے کہتے ہیں ان مصنوعی سیاروں کے ذریعہ اپنے دشمنوں پر ایٹم بم گرائیں گے۔