خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 755
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵۵ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۷۴ء رہا ہوتا اور سانپ آگے آگے بھاگ رہا ہوتا تھا۔ایک دفعہ میں بھی یہاں اپنی زمینوں پر پھر رہا تھا کہ یکدم آواز آئی سانپ ! میں چوکنا ہو گیا اور دیکھتا رہا۔ذرا آگے گیا تو ایک سانپ نظر آیا۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے تو فلاں جگہ سے آواز آئی تھی وہ کہنے لگے آپ تو آگے آگے تھے، وہاں بھی ہم نے ایک سانپ مارا ہے۔پس نہ صرف یہ کہ سانپ کو ڈسنے کا حکم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیار کا اظہار کرتے ہوئے وقت سے پہلے تنبیہ بھی کر دیتا ہے کہ یہاں سانپ ہے، اس سے بچو۔ورنہ اگر سانپ کو حکم ہوتا انسان کو ڈسنے کا تو اس نے تو حکم الہی کو بہر حال ماننا تھا۔غرض میں یہ بتا رہا ہوں کہ سانپ کو ڈسنے کا حکم نہیں ورنہ سارے سانپ انسان کو ڈسا کرتے۔میرے خیال میں شاید لاکھ میں سے ایک سانپ ڈستا ہوگا یورپ نے یہ ریسرچ کی ہے کہ جن لوگوں کو سانپ ڈس لیتے ہیں (اور اس سے وہ مرجاتے ہیں ) اُن میں سو میں سے ایک آدمی ایسا ہوتا ہے جس کو زہریلا سانپ کاٹتا ہے۔اکثر سانپ ایسے ہوتے ہیں جن میں زہر ہی نہیں ہوتا ہے مگر ایسے سانپوں سے ڈسے ہوئے لوگوں میں سے بھی کچھ مر جاتے ہیں۔زہر کی وجہ سے نہیں بلکہ دہشت سے اُن کی حرکت قلب بند ہو جاتی ہے۔اگر ایسے لوگ خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور ڈریں نہیں تو اُن کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔بہر حال سانپ کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ مظہر صفات باری بنے اور نہ کتے کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ صفات الہیہ کا مظہر بنے لیکن وہ خدا کی مخلوق ہے اُسے جو خدا تعالیٰ کہتا ہے وہی کرتا ہے۔اُس کے حکم سے ایک ذرہ بھر ادھر اُدھر نہیں ہو سکتا مگر انسان اشرف المخلوقات ہے۔اُسے خدا تعالیٰ نے دعا کرنے کی طاقت بھی دی ہے اور یہ اختیار بھی دیا ہے کہ چاہے تو وہ دعا کرے اور چاہے تو نہ کرے لیکن اگر وہ دعا کرتا ہے اور شرائط دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا اور دعا کرتا ہے تو اس کی قبولیت کا اُسے وعدہ بھی دیا گیا ہے تاہم ساتھ ہی اُسے یہ انذار بھی کیا ہے کہ اگر تم شرائط دعا پوری نہ کرو گے اور میرے پیار کے حصول کے لئے پورے انہماک اور پوری توجہ سے اور انتہائی پیار کے ساتھ دعائیں نہ کرو گے تو میں تمہاری دُعاؤں کو قبول نہیں کروں گا۔خدا تعالیٰ نے ایک عاجز انسان کو یہ چیز دے کر در حقیقت اس پر اتنا احسان کیا ہے کہ وہ اس کا