خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 737
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۳۷ خطبہ جمعہ ۱۱ را کتوبر ۱۹۷۴ء اور جمعہ کے درمیان کی خطائیں معاف ، رمضان اور رمضان کے درمیان کی خطائیں معاف لیکن شیطان کی راہ پر چل کر اباء اور استکبار نہیں کرنا، کبائر کا مرتکب نہیں ہونا۔باقی انسان کمزور ہے ہزار بھول چوک انسان سے ہو جاتی ہے۔اس کے لئے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں خدا کے حضور جھکنے ( کی ) ضرورت ہے اور تضرع سے اپنی خطاؤں کومعاف کروانے کی ضرورت ہے اور میں نے بتایا ہے کہ اصل جو چیز ہے وہ تو بحیثیت مجموعی ایمان ہے۔ایمان کے لفظ کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں قریباً آٹھ سو مرتبہ استعمال کیا ہے۔اس کی تفصیل میں میں نہیں گیا۔وہ مضمون میرے ذہن میں ہے اس کو دیکھ رہا ہوں۔بہر حال اصل چیز ایمان ہے اور بحیثیت مجموعی اس میں صغائر سے بچنا بھی شامل ہے۔کبائر سے بچنا بھی شامل ہے۔اس ایمان میں چھوٹی نیکیاں کرنا بھی شامل ہے اور بڑی نیکیاں کرنا بھی شامل ہے۔انسان کوشش کرتا ہے اور دعا کرتا ہے۔خدا ان نیکیوں کو قبول کرے تو اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ جو ایمان لاتے ہیں اور بحیثیت مجموعی ان کا ایمان خالص رہتا ہے اور اس کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں ہوتی تو ایسے ایمان کو اللہ تعالیٰ قبول کرتا اور اس پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے۔اسی لئے میں نے کہا کہ آپ کی اصل اور بنیادی دعا ہر وقت کی یہ ہونی چاہیے کہ اے خدا اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ہمارے ایمانوں کی سلامتی اور ان کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔روز نامه الفضل ربو ۹۰ / نومبر ۱۹۷۴ ، صفحه ۲ تا ۵)