خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 736 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 736

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۳۶ خطبہ جمعہ ۱۱ را کتوبر ۱۹۷۴ء کر دے لیکن غفلتوں سے مراد کبائر نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جو انسانی کمزوریوں کے نتیجہ میں اس سے سرزد ہو جاتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ اور جمعہ کے درمیان کے وہ صغائر ، وہ چھوٹے چھوٹے گناہ جو ہماری نمازیں معاف نہیں کروا سکیں جمعہ کی بعض گھڑیاں ایسی ہیں جن میں خدا کے حضور جھکو اور کہو کہ اے خدا ہم نے کوشش کی لیکن ہماری کمزور کوششوں کے نتائج پورے نہیں نکل سکتے جب تک تیر افضل شامل حال نہ ہو۔جو خامیاں رہ گئی ہیں۔اب اس ہفتہ کی کوتاہیوں کو آج معاف کر دے اور اگر خلوص نیت ہو اور اگر انسان کے اندر ایک عاجزانہ تڑپ ہو اور تضرع ہو اور حقیقی توحید پر وہ قائم ہو اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات اس کی آنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوں گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے تو پھر اسے امید رکھنی چاہیے کہ ہر جمعہ سے پہلے سات دنوں کے اس کے اس قسم کے صغائر جو پہلے معاف نہیں ہو سکے وہ اس جمعہ کی پاک گھڑیاں معاف کروا دیتی ہیں پھر بھی کچھ رہ سکتا ہے۔انسان کمزور ہے (میں یہ بتا رہا ہوں کہ کتنا پیار ہے بندے سے اللہ کا اور کتنی رحمت کا جلوہ ہے بندے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا پھر بھی ہو سکتا ہے تمہارے کچھ صغائر معاف ہونے سے رہ جائیں تو رمضان کا مہینہ ہے۔رمضان کے مہینہ کا ہر دن اپنے سے پہلے بارہ مہینوں کی خطائیں معاف کرواتا ہے۔سارا مہینہ مل کر سارے سال کی خطاؤں کی معافی کے سامان پیدا کرتا ہے لیکن کبائر معاف نہیں ہوتے۔شرک معاف نہیں ہوتا۔نمازیں چھوڑی ہوئی ہیں تو وہ معاف نہیں ہوتیں کیونکہ جو پانچ ارکان اسلام ہیں۔توحید کا اقرار، نماز، روزہ، حج اور زکوۃ ان کو چھوڑ نا کبائر میں شامل ہے۔ان کے متعلق آپ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ جو ان کو چھوڑے گا اس کی کوئی معافی نہیں ہوگی سوائے حقیقی تو بہ کے۔ہاں صغائر جو انسان کی بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں سرزد ہوتے ہیں ان کی معافی کے یہ سامان ہیں۔اسی طرح بڑی عید ہے اس کے متعلق کہا۔اس رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ کا اپنی اُمت کے لئے لائی ہوئی تعلیم کا اور آپ کی دعاؤں اور آپ کے جذبات کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے اور خدا تعالیٰ نے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) کہہ کر جو ایک عظیم ارشاد فرمایا تھا اسی ارشاد کی روشنی میں یہ ساری چیزیں ہیں کہ دو نمازوں کے درمیان کی خطائیں معاف، جمعہ