خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 723
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۲۳ خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۷۴ء دیتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے نشانات سے اپنے وجود کا پتہ دیتا ہے۔آج کل کے جو رنگ برنگ گلاب کے پھول نظر آتے ہیں ان میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن دیسی گلاب میں خوشبو ہوتی ہے یا اسی طرح کے اور کئی پھول ہوتے ہیں جن کی خوشبو ہوتی ہے۔اگر اس قسم کے پھولوں کے باغ کے پاس سے آپ گزریں جس کی چاردیواری ۶۔ے فٹ اونچی ہے آپ کی نظر اندر نہیں جاتی ، آپ ان پھولوں کو دیکھ نہیں سکتے لیکن آپ کا ناک آپ کو بتادے گا کہ یہاں یہ پھول ہے مثلاً موتیا ہے یا چنبیلی ہے وغیرہ حالانکہ آپ نے اس کو دیکھا نہیں ہوتا۔پس وہ خدا جوانسان کو نظر نہیں آتا اور نہ آسکتا ہے وہ اپنے نشانات سے اپنے وجود کا پتہ دیتا ہے۔وہ اپنے نشانات سے اور اپنے پیار سے اپنے حسن و احسان کی خبر دیتا ہے۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت کے بعد انسان کے دل میں اپنے پیدا کرنے والے خدا کے لئے محبت جوش مارتی ہے، اس محبت کا تقاضا ہے کہ خدا اس سے باتیں کرے، اس کے لئے اسلام نے ہمیں دعائیں سکھائیں اور ہمیں دعا کرنے کی تعلیم دی۔دعا کرنے کی تعلیم کے نتیجہ میں ہم اپنی زبان میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی اجازت پاتے ہیں۔اسلام نے ہمیں اور بہت سی دعا ئیں سکھا دیں ، ایسی عظیم دعا ئیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔وہ ایک قسم کے نشانِ راہ ہیں۔وہ علامات ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ خدا کے حضور جا کر انسان پناہ لے۔ایک طرف ہمیں یہ دعا سکھا دی رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا اے خدا ! ہم جو بھی تیرے حضور پیش کریں تو اسے قبول فرما اور ایک نبی کے منہ سے یہ کہلوایا: وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ ہمارے اسلام کو سلامت رکھ اور قائم رکھ۔یہ کتنی بڑی دعا ہے جس میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اسلام کی سلامتی کے لئے انسان خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنے کا محتاج ہے نہ کہ کسی اور کا۔اور دوسری طرف حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ اپنے بوٹ کا تسمہ بھی لینا ہو تو خدا سے مانگو۔اب تو پتہ نہیں تسمے کی کیا قیمت ہے۔میں نے خود بھی تمہ نہیں خریدا۔جب ہم چھوٹے بچے تھے تو ایک آنے یا چھ پیسے کا تسمہ ملتا تھا۔گو تسمے کی عمر جوتے سے چھوٹی اور بوٹ کی عمر تسمے سے بڑی ہوتی ہے اور پھر یہ بھی کہ بچے کے ایک بوٹ کے لئے بعض دفعہ ماں باپ کو پانچ پانچ ، دس دس دفعہ