خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 53
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۳ خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ انسانی پیدائش کی کیا غرض ہے خطبه جمعه فرموده ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء بمقام مسجد احمد یہ۔اسلام آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ - (ال عمران : ۲۰) بلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ ق ولاهُمْ يَحْزَنُونَ - (البقرة : ١١٣) اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہمارا مذہب اسلام ہے اسی نام سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے متعلق پہلوں کو اطلاع دی گئی تھی۔اسلام کے ایک لغوی معنی ہیں اور ایک اصطلاحی معنی ہیں۔ہر لفظ تو ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ایک زبان کے بہت سے الفاظ لغوی معنے بھی رکھتے ہیں اور اصطلاحی معنے بھی رکھتے ہیں۔اصطلاحی معنی لغوی معنی کو محدود کرتا ہے۔اسلام کے لغوی معنے ہیں کسی چیز کا پہلے مول دے دینا، سودا کر لینا، قیمت دینا، وصول کرنا، در اصل تجارت دونوں طرف سے ہی ہے یا کسی کو اپنا آپ سونپ دینا یا صلح کرنا اور لڑائی جھگڑا دور