خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 708
خطبات ناصر جلد پنجم 2۔1 خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پیدا کیا۔اتنے بڑے عالمین کی وسعت کو ہمارا دماغ اور قوت فکر اپنے احاطہ میں نہیں لے سکتی۔ایک لمبے مضمون کو مختصر کر کے میں اس کی مثال دے دیتا ہوں کہ ) ہمارا جو نظام شمسی ہے ( بہتوں کو اس سے واقفیت ہوگی بعض بچوں کو نہیں ہوگی ) ان گنت اور بے شمار نظام ہائے شمسی سے ایک قبیلہ بنتا ہے۔وہ قبیلہ اس عالمین کی ایک اکائی ہے۔اس کا اپنا ایک وجود ہے اور اس کو انگریزی میں کیلیکسی (Galaxy) کہتے ہیں اور یہ یہ در گیلیکسی Galaxy)(صرف) اپنی وسعتوں کے اندر قائم اور ( محدود) نہیں بلکہ جب سے گیلیکسیز (Galaxies) پیدا ہوئی ہیں اور جو سیلیکسی پیدا ہو جائے وہ ایک خاص معین اور نامعلوم جہت کی طرف حرکت کر رہی ہے اتنی وسعت ہے اور لیلیکسی (Galaxy) کے متعلق ان سائنسدانوں کا ( جن کا تعلق ستاروں کا علم حاصل کرنے سے ہے) کہنا ہے کہ ہم ان نظام ہائے شمسی کو شمار ہی نہیں کر سکتے جن سے ایک سیلیکسی (Galaxy) یا ایک قبیلہ بنتا ہے گویا ان گنت سورج کے نظاموں سے مل کر ایک قبیلہ بنتا ہے۔سورج کے ایک نظام کو ایک خاندان سمجھیں اس سے پھر ایک قبیلہ بنتا ہے اور اس قبیلہ میں سورج کے بے شمار نظام ہیں اور اس ساری چیز کا ایک وجود ہے اور وہ سب کے سب اپنی اپنی نسبتیں ( جو ایک دوسرے سے ہیں ) قائم رکھتے ہوئے ایک جہت کی طرف حرکت میں ہیں مثلاً ہمارا سورج اور اس کے نظام کے ستارے اپنے اپنے محور پر بھی ایک خاص زاویہ میں ایک خاص تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں اور سورج کے گرد بھی ان کی حرکت جو ایک مخصوص فاصلہ پر ہو رہی ہے اپنی جگہ قائم ہے اور ایک نظام شمسی کی نسبت وسعت کے لحاظ سے دوسرے نظام شمسی کے ساتھ ہے۔یہ بے شمار اور ان گنت نسبتیں اللہ تعالیٰ نے ان خاندانوں کی آپس میں رکھی ہیں اور سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ جو گیلیکسی ہے جس میں ان گنت اور بے شمار نظام ہائے ستمسی ہیں ان ” قبائل کی تعداد بھی بے شمار ہے اور اَن گنت ہے آپ کا دماغ چکرا جائے گا۔ہم اس وسعت کو دماغ میں لا ہی نہیں سکتے۔پھر خالی یہ نہیں بلکہ ان بے شمار نظام ہائے شمسی کے بے شمار قبائل کی حرکت آپس میں (Parallel ) یعنی متوازی نہیں بلکہ ہرلمحہ ان کے آپس کے فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ان بے شمار اور ان گنت قبائل کے درمیان کا فاصلہ ہر آن بڑھتا چلا جارہا ہے۔تو جس خلا (Space) میں یہ ان گنت گیلیکسیہ سیز (Galaxies)