خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 685
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۵ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء میں صرف اس کا بندہ ہوں اور اس کی صفات میں میں رنگین ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی صفت جو ہے اس کے متعلق آیا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) اللہ تعالیٰ کو جو گالیاں دینے والے دہر یہ ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھوکا نہیں مارتا بلکہ قرآن کریم نے تو یہ کہا کہ اس دنیا میں ہم ان کو بڑے مال دے دیتے ہیں کیونکہ جو روحانی اور دینی معاملات ہیں ان کے فیصلے اور جزاء سزا کے احکام دوسری دنیا میں جاری کئے جاتے ہیں ویسے بعض حکمتوں کے مطابق یہاں بھی جاری کئے جاتے ہیں لیکن عام اصول یہ ہے کہ یہاں نہیں بلکہ وہاں فیصلے ہوں گے لیکن جب ظلم آخری حد تک پہنچ جاتا ہے اور خدا کے بندوں پر انتہائی تکالیف نازل کی جاتی ہیں اس وقت خدا تعالیٰ اپنی قدرت اور مالکیت کے جلوؤں کی ایک جھلک جو آخری فیصلہ ہے اس کی جھلک اس دنیا میں بھی دکھا دیتا ہے لیکن جب تک ظلم اس حد تک نہ پہنچے اس کی یہی سنت ہے۔قرآنِ کریم نے یہی بیان فرمایا ہے۔ہماری انسانی تاریخ نے یہی ریکارڈ کیا اور یہی محفوظ رکھا۔خدا تعالیٰ کی رحمت ہر دوسری چیز پر وسیع ہے اور اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ سوائے اس کے ہمارا کوئی معبود نہیں اور اس کی صفات اپنے اندر پیدا کریں گے تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کے حکم کے ماتحت اس کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کی رحمت وسعت كُلَّ شَيْءٍ ہے اس کے بندے کا بھی رحم کا سلوک وَسِعَتْ كُل شَيْءٍ کے ماتحت ہونا چاہیے اور کسی پر غصہ یا کسی کو دکھ پہنچانے کا خیال بھی ایک احمدی کے دماغ میں پیدا نہیں ہونا چاہیے۔کجا یہ کہ اس کا ہاتھ دکھ پہنچانے لگے دماغ کو بھی اس گندے خیال سے پاک رکھنا ایک احمدی کا فرض ہے۔اس لئے کہ لا اله الا اللہ کے مفہوم کو ہم سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معرفت ہمیں حاصل ہے اور خدا تعالیٰ کا عبد بننا، اس کے لئے اپنی اس دنیاوی ظاہری زندگی سے عملاً ہاتھ دھو بیٹھنا۔فنا کے لبادہ کو اپنے اوپر اوڑھ لینا اور اسی رنگ میں رنگین ہونا اور نفسانی رنگوں اور جذبات کو مٹا ڈالنا یہ ہو نہیں سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت نہ کی جائے۔اس لئے چوتھے معنی لا الہ الا الله کے جو ہمیں سمجھائے گئے وہ یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی ہمارا مطاع نہیں اس کے احکام اس کے اوامر ونواہی پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے کیونکہ اس کے بغیر