خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 683 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 683

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۳ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء خوشامد نہیں کر سکتا۔بڑی دیر کی بات ہے۔شاید سات آٹھ سال گزر گئے غالباً ۱۹۶۶ء - ۱۹۶۷ء کی بات ہے ایک موقع پر مجھے حاکم وقت سے ملنا تھا تو مجھے بڑے زور سے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ وَارْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ اَ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ :(يوسف : (۴۰) اور یہ میرے لئے عنوان تھا۔ہدایت تھی کہ اس رنگ میں جا کر باتیں کرنی ہیں۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کمزوری سے بچانے کے لئے وقت سے پہلے ہی راہ بتا دی۔ہم احمدی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک محبوب روحانی فرزند کی بیعت میں آکر ہم نے اللہ تعالیٰ کی معرفت اپنے اپنے دائرہ استعداد میں حاصل کی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ دعوی کرتے ہیں اور اس کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم پورے اور کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہیں۔لا إِلهَ إِلَّا الله کو سمجھتے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں۔(اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں جو میں آپ کو بتارہا ہوں) ایک احمدی کا دل ہے۔اس کے اندر سوائے خدا کی خشیت کے اور کسی کی نہ خشیت ( پیدا) ہوسکتی ہے کیونکہ اس جیسا کوئی نہ حسن رکھتا ہے نہ احسان کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور نہ کسی اور کا خوف پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ اس کی عظمت اور اس کے جلال کو دیکھنے کے بعد دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں خدا کے ایک عارف بندے کو کیڑے کی مانند نظر آتی ہیں اور محبت و رضائے الہی کے لئے ہی تو یہ جماعت اور اس کے افراد اس قدر قربانی دے رہے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور پھر یہ جماعت خدا تعالیٰ کے پیار کو بھی حاصل کرتی ہے۔اب پریشانی کے حالات پیدا ہوئے اور کچھ تجارت پیشہ لوگوں کو بھی پریشانی اٹھانی پڑی لیکن اس کا رد عمل یہ نہیں ہوا کہ کسی ایک نے بھی جماعت کو یہ کہا ہو کہ ہمارے چندے معاف کر دو یا کم کر دو۔یہ تو ہمارے علم میں ہے کہ بہتوں نے یہ کہا کہ اس وقت قربانی کا وقت ہے ہم ماہ بماہ چندے دینے کی بجائے آئندہ پانچ چھ مہینوں کا بھی اکٹھا چندہ دے دیتے ہیں اور انہوں نے دیا تو جماعت احمد یہ جو ہے وہ کس غرض کے لئے زندہ ہے؟ آپ سوچا کریں کہ کیوں آپ نے مہدی معہود کو قبول کیا؟ کوئی مقصد ہونا چاہیے ساری دنیا کو چھوڑ کر اپنے عزیزوں تک کی گالیاں سننے کے لئے