خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 643 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 643

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۳ خطبہ جمعہ ٫۵جولائی ۱۹۷۴ء عطا فرمائی ہے اور اس نے ہمیں یہ عرفان بخشا ہے کہ ہماری انفرادی یا اجتماعی طاقت اللہ جَلّ شَانُهُ کی قدرت اور طاقت کے مقابلہ میں اتنی حقیر ہے کہ اس کا نام لینا بھی غلطی ہے۔ہم نے اپنے دکھوں کو دور کرنے کے لئے اپنی طاقت یا اپنی دولت یا اپنے جتھے یا کسی جگہ پرا اپنی کثرت کو نہیں دیکھنا۔اگر آپ نے اپنے ماحول کو سازگار بنانے کے لئے اپنی طاقت پر بھروسہ کیا تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ پھر مجھے تمہاری مدد کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اگر تم نے اپنی طاقت پر بھروسہ نہ کیا۔اگر تم اپنے خدائے قادر و توانا کے حضور جھک گئے اور صدق دل سے یہ دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہم اندھے نہیں ، ہم مجنون نہیں کہ خود کو کچھ سمجھیں ، ہم تو ذرہ ناچیز ہیں اور تیرے سوا ہمارا اور کوئی سہارا نہیں۔ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ اگر تو ہمارا سہارا بن جائے تو پھر ہمیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں۔اس لئے اے ہمارے ربّ کریم ! ہم نہایت عاجزی کے ساتھ تیرے دامن کو پکڑتے ہیں، اس دعا کے ساتھ کہ اے خدا! تو اپنا دامن چھوڑا کر ہمیں پرے نہ پھینک دینا۔اے خدا! ہم تیرے فضل اور رحم کے ہر آن محتاج ہیں۔میں نمازیں جمع کروں گا جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز بھی پڑھا دوں گا کیونکہ بہت سے دوستوں نے واپس اپنے گھروں کو جانا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کا حافظ و ناصر ہو۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ ) 谢谢谢