خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 618 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 618

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۱۸ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء حکومت پاکستان کو اس کے بعد یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے کہ یہ مسلمان نہیں۔حکومت پاکستان کو یہ حق ہے کیونکہ ہم یہ Profess کرتے ہیں (اس عقیدہ کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم احمدی وہائی نہیں ) کہ قانون بنائے کہ جماعت احمد یہ وہابی نہیں ہے۔حکومت کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ احمدی شیعہ نہیں ہیں۔حکومت کا یہ حق بھی ہے کہ وہ یہ کہے کہ احمدی اہلِ حدیث نہیں ، دیو بندی نہیں ، بریلوی نہیں۔یہ نہیں وہ نہیں۔جس کا ہم نے انکار کیا ہے وہ انکار ہماری طرف منسوب کر کے اس کا انکار کرے اور جس کا ہم نے اقرار کیا ہے وہ ہماری طرف منسوب کر کے اقرار کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے متعلق یہ اعلان کیا کہ ہم احمدیہ فرقہ کے مسلمان“ ہیں۔ایک جگہ آپ نے انہی الفاظ میں یہ جملہ بولا ہے احمدی فرقہ کے مسلمان۔ساری دنیا کے احمدی کہیں گے کہ ہم احمدی فرقہ کے مسلمان ہیں اور دنیا کی کوئی حکومت یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ یہ کہے کہ تم احمدی فرقہ کے مسلمان نہیں ہو۔پس ہزار ادب کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ یہ عقل کی بات ہم حکومت کے کان تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ جس کا تمہیں انسانی فطرت نے اور سرشت نے حق نہیں دیا، جس کا تمہیں دنیا کی حکومتوں کے عمل نے حق نہیں دیا، جس کا تمہیں یو۔این۔او کے Human Rights نے ( جن پر تمہارے دستخط ہیں ) حق نہیں دیا ، چین جیسی عظیم سلطنت جو مسلمان نہ ہونے کے باوجود اعلان کرتی ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کوئی شخص Profess کچھ کر رہا ہو اور اس کی طرف منسوب کچھ اور کر دیا جائے۔میں کہتا ہوں میں مسلمان ہوں، کون ہے دنیا میں جو یہ کہے گا کہ تم مسلمان نہیں ہو۔یہ کیسی نا معقول بات ہے۔یہ ایسی نا معقول بات ہے کہ جو لوگ دہر یہ تھے انہیں بھی سمجھ آگئی۔پس تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کا تمہیں تمہارے اس دستور نے حق نہیں دیا جس دستور کو تم نے ہاتھ میں پکڑ کر دنیا میں اعلان کیا تھا کہ دیکھو کتنا اچھا اور کتنا حسین دستور ہے۔آج اس دستور کی مٹی پلید کرنے کی کوشش نہ کرو اور اس جھگڑے میں نہ پڑوا سے خدا پر چھوڑ دو کیونکہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فعل سے ثابت کرے گا کہ کون مومن اور کون کا فر ہے۔