خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 560 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 560

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۶۰ خطبہ جمعہ ۱۷ رمئی ۱۹۷۴ء بوجھ پڑتا ہے۔ایک چھوٹی سی مثال ، بالکل ہی چھوٹی سی مثال میں دیتا ہوں اور چونکہ میری زندگی کا مشاہدہ ہے اس لئے مختصر بیان کر دیتا ہوں۔کچھ باتیں آپ کے سامنے آجائیں گی۔اس وقت مجلس خدام الاحمدیہ کا فی فعال مجلس ہے۔اس کا ایک اپنا دائرہ عمل اور دستور ہے اس کے جوا بتدائی کام تھے وہ بڑی حد تک مکمل ہو چکے ہیں۔اب بھی ہمارا نو جوان بہت ہمت اور بڑی قربانی سے کام لینے والا ہے اور شروع میں بھی یہی حال تھا۔جب میں ۱۹۳۸ء میں ولایت سے واپس آیا تو اس وقت مجلس خدام الاحمدیہ کی نئی قائم ہوئی تھی۔اس کا کوئی دستور بھی نہیں تھا نیا نیا کام تھا۔اس کو چلانے کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا مجھے یاد ہے کہ شروع میں جب قادیان میں باہر کیمپ کی شکل میں خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع کیا تو اس وقت چونکہ یہ نیا نیا کام تھا اور تجربہ نہیں تھا اس لئے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ مقام اجتماع کے گرد بانس کیسے لگانے ہیں اور ان پر رسیاں کس طرح باندھنی ہیں۔میں اس وقت جامعہ احمدیہ کا پرنسپل تھا۔جامعہ احمدیہ کے میرے شاگرد اور میں خود بھی کئی دن خرچ کرتے اور چھوٹے رنبوں کے ساتھ گڑھے کھود کر اُن کے اندر بانس لگاتے تھے بیچارے خدام کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے تھے۔پھر ایک دو سال کے تجربہ کے بعد یہ پتہ لگا کہ اتنی کوفت اور تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے بس ایک کلہ“ بنا لیا دو چار ضر میں لگائیں بانس کے لئے سوراخ بن گیا اُس کو نکالا آگے چلے گئے۔اس طرح جس کام پر ہفتے لگے تھے وہ دو گھنٹوں میں مکمل ہو گیا۔میں نے یہ ایک چھوٹی سی ظاہری مثال دی ہے خدام الاحمدیہ کے کام کی تا کہ بچے بھی سمجھ جائیں۔غرض جس کام کو شروع کیا جاتا ہے اس کو معیار پر لانے کے لئے بڑی کوفت اُٹھانی پڑتی ہے۔بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔بعد میں آنے والوں کو اس قسم کی قربانیاں نہیں دینی پڑتیں۔چنانچہ ساری دنیا کو اللہ تعالیٰ کے نور اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دائرہ میں لانے کا کام جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شروع ہوا تو یہ اتنا عظیم کام تھا اور بھاری ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں اور بڑا بوجھ اُٹھانا تھا اس لئے اس ابتدائی زمانہ کے مسلمانوں