خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 529
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۲۹ خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۷۴ء کے اندر یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ ہم نے قانونِ قدرت اور احکام الہی کی زنجیروں میں باندھ کر ہر شے کو تمہارا خادم بنایا ہے ان قوانین کا علم حاصل کرو۔ان کے مطابق کوشش کرو تو پھل تمہیں ملے گا سوائے اس کے جو دوسرا قانون ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ناراض کرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عام قانون کو تمہارے حق میں استعمال نہیں ہونے دے گا اور درختوں کو کہے گا نہیں اب میرا وہ قانون نہیں چلے گا کیونکہ انہوں نے میرے مقابلہ پر کھڑے ہو کر بغاوت کی ہے اس لئے اب اگر یہ عام قانون کی بھی پابندی کریں گے تب بھی ان کو پھل نہیں ملے گا۔وہ تو عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ سے منہ موڑنے والوں اور انبیاء کے مخالفوں پر ہمیشہ آتے رہے ہیں اور قرآنِ کریم نے اس کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔قرآنِ کریم یقیناً بڑی عظیم کتاب ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔بہر حال جو کام ہم نے درخت لگانے کا شروع کیا ہے قانونِ قدرت کے مطابق ہم اگر محنت کریں گے تو ہمیں ان کا سایہ ملے گا اور پھل ملے گا ورنہ نہیں ملے گا قانونِ قدرت یہ کہتا ہے کہ اگر درخت بچہ ہو اور اُس کی جڑوں کو ہلا دیا جائے تو وہ درخت بڑھ نہیں سکتا اور مرجاتا ہے اس کی جڑیں تنگی ہو جائیں تب بھی مر جاتا ہے جڑیں ہل جائیں اور ہوا اندر پڑ جائے تب بھی مرجاتا ہے جڑیں کٹ جائیں تب مرجاتا ہے مثلاً اگر ایک سال کا درخت ہے اور آپ نے اُس کی گاچی دو مہینے کے پودے جتنی بنائی ہے جس کے نتیجہ میں اس کی موٹی جڑیں کٹ جائیں گی تو قانونِ قدرت کی خلاف ورزی کر کے آپ کو پھل نہیں ملے گا۔پس قانونِ قدرت کی پابندی کرنی پڑے گی۔اب میں نے آپ سے کہا کہ یہ جو بنیادی تعلیم ہے اس کو یا درکھیں تا کہ کوئی کمیونسٹ دہر یہ آپ سے بات کرے تو آپ جواب دے سکیں۔میں حیران ہوا جب ایک کمیونسٹ رسالہ کے ایک مضمون میں میں نے یہ پڑھا کہ یہ صرف عزم یعنی انسانی ارادہ ہے جو نتائج پیدا کرتا ہے آسمانی قانون نتائج پیدا نہیں کرتا۔میں نے کہا واہ ! تم نے تو ۲ /۱ علم بھی حاصل نہیں کیا۔انسانی کوشش اور عزم صرف اُس وقت کامیاب ہوتا ہے جب عام حالات میں قانونِ قدرت کی پابندی کر رہا ہو اور خاص حالات میں ( یعنی اگر کوشش کرنے والا خدا کا برگزیدہ ہے تو عام حالات میں جتنی فصل ہوگی اس سے ) زیادہ خدا تعالیٰ دے دے گا اور اگر اس نے خدا کو ناراض کیا ہے تو عام حالات