خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 528
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۲۸ خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۷۴ء لیکن جتنی خدمت تم اپنی محنت سے ان سے لو گے اُتنی خدمت کریں گی اس سے زیادہ نہیں کریں گی۔مغل بادشاہ نے پانچ برس کا پھل دینے والا درخت اپنے حکم سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لگوا دیا اور قانونِ قدرت جو درختوں اور اُن کی جڑوں اور اُن کے پھیلا ؤ اور ان کو پانی دینے کے متعلق ہے کہ اتنا پانی ملنا چاہیے اور اتنے وقت کے بعد ملنا چاہیے۔غذا اتنی ہونی چاہیے ان سب چیزوں کے متعلق قانون ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔اس قانون کو ان بادشاہوں نے سمجھا اور اس کے مطابق اُسے پچاس میل یا دوسو میل دور لے جا کر دوسری جگہ لگوا دیا۔فرقان بٹالین جب کشمیر کے محاذ پر رضا کارانہ طور پر اپنے ملک کی خدمت کر رہی تھی تو ہماری دائیں طرف ایک قلعہ تھا جس کی دیواریں اس محراب کی اونچائی کے برابر اگر کبھی جائیں تو اس میں تین یا چار پتھر تھے اور وہ پتھر اس علاقہ کے نہیں تھے ہم نے پتہ لیا۔صحیح اور علی وجہ البصیرت تو ہمیں پتہ دینے والے نہیں تھے لیکن جتنا پتہ لگ سکا وہ یہ تھا کہ سینکڑوں میل سے ہاتھیوں کے اوپر اتنے بڑے بڑے پتھر اٹھا کر لائے اور وہاں قلعہ بنا دیا۔وہ دیوار اتنی مضبوط تھی کہ ہندوستان کے ۲۵ پاؤنڈ کے گولے اُس دیوار پر پڑتے تھے۔تو ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوتا تھا اور بغیر نقصان پہنچائے دوسری طرف جا کر گر جاتے تھے تو جو اتنے اتنے وزنی پتھر اُٹھا کر لے آئے اُن کے لئے درختوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا کیا مشکل تھا۔درخت کی عمر کے مطابق جتنی بڑی گاچ کی ضرورت ہوتی تھی وہ جانتے تھے اور اس طرح وہ درخت پھلدار ہو جاتے تھے۔بادشاہ سلامت واپس آئے تو وہاں باغ لگا ہوا تھا۔پھلدار درخت لگے ہوئے تھے موسم کے مطابق پھل لگے ہوئے تھے ، پھول لگے ہوئے تھے ہر چیز وہاں تھی اور جہاں تک مجھے یاد ہے کم و بیش ایک سال میں یہ سب کچھ ہوا۔پس جو چیز ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ بے شک اس عالمین کی ہر چیز انسان کی خادم ہے لیکن انسان پر اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی لگائی ہے کہ محنت سے اپنی عقل کو استعمال کر کے تجربہ حاصل کرنے اور مشاہدہ حاصل کرنے کے بعد قانونِ قدرت کی اتباع کرتے ہوئے وہ جو کوشش کرے گا اس کا پھل اس کو مل جائے گا۔کیيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى - وَ أَنَّ سَعْيَه سَوفَ يُڑی میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان کو اُس کی کوشش کا پھل ملے گا لیکن خدا تعالیٰ نے جس طرح کہا کہ سخر لكم اسی