خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 523 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 523

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۲۳ خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۷۴ء بلکہ اس پر چلنا ضروری ہے اور محض چلنا ضروری نہیں بلکہ ہرلمحہ اور ہر آن پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ راہ راست پر حرکت کرنا ضروری ہے تب انسان کو آخری خوشیاں اور جو انتہائی لذتیں ہیں اور انتہائی خوشی ہے وہ ملتی ہے جس کا نام اس دنیا کی جنت بھی رکھا گیا ہے اور جس کی آخری شکل اس جہان سے گذرنے کے بعد دوسری زندگی کے اندر انسان کے سامنے آئے گی لیکن وہاں بھی صراط مستقیم کی منازل کی انتہا نہیں ہو گی۔قرآنِ کریم نے بھی اور احادیث نے بھی قرآنِ کریم کی تفسیر کرتے ہوئے بڑی وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ وہاں بھی اگر چہ امتحان نہیں ہو گا مگر عمل ہوگا۔امتحان کا مطلب ہے کہ جہاں یہ خطرہ ہو کر عمل درست بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہوسکتا ہے۔عمل اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل بھی کر سکتا ہے یعنی عملِ صالح بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھی بھڑکا سکتا ہے یعنی عمل غیر صالح بھی ہوسکتا ہے۔پس یہاں عمل ہے اور امتحان ہے اور دوسری زندگی میں عمل تو ہے ( نکتا پن نہیں کہ پوستیوں کی طرح افیم کھا کر بیٹھ گئے اور اونگھتے رہے ) عمل ہے مگر امتحان نہیں۔یہاں عمل ہے اور امتحان ہے۔وہاں عمل ہے اور ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔وہاں پیچھے ہٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے آگے ہی آگے بڑھنا ہے ہر روز زیادہ ترقیات ملتی ہیں اور ہر روز زیادہ عمل کی توفیق ملتی ہے۔پس یہ شکل ہے ایک مومن کی زندگی کی۔پھر دنیا میں اُس کے اعمال بھی یہی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور دوسری دنیا میں بھی اُس کے اعمال یہی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اس دنیا میں انسان مومن صالح ، خدا کا محبوب اور مغترب دو قسم کا عمل کرتا ہے۔ایک عمل ہے اُس کا شکر ادا کرنے کے لئے اور ایک عمل ہے مزید شکر کے سامان کے حصول کے لئے یعنی پہلے سے زیادہ ملے اور زیادہ وہ شکر ادا کرے۔ہمیں اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة : ۲۰۲) کی دعا سکھائی کہ ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا کر کہ اس دنیا کی حسنات بھی ہمیں ملیں ( مثلاً درخت لگے ہوئے ہوں اور گرمی کم ہو۔یہ دنیا کے حسنات میں سے ہے ) اور ہمیں ایسے مقبول اعمال کی توفیق عطا کر کہ تیری جنتیں ہمیں یہاں سے جانے کے بعد حاصل ہوں۔جنتوں کے ہم حقدار ٹھہریں وہاں جانے کے بعد ایک ہی زندگی ہے یہاں ہمارے سامنے دو زندگیاں ہیں۔ایک اس دنیا کی زندگی