خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 34
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء ثابت کرنے کے لئے قرآنِ کریم کی آیت پر آیت درج کرتے چلے گئے ہیں ان سب کی اشاعت بھی یہاں بند ہو جائے گی اور اگر بند نہیں ہوگی تو عقلاً یہ قانون نامعقول ٹھہرے گا کیونکہ مطلوب ہے۔قرآن کریم کی آیات کی حرمت اور طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ کسی کتاب اور رسالہ میں نہ چھپے تو پھر جو کتا میں پہلے چھپ چکی ہیں جن میں آیات کی بے حرمتی کا اسی طرح سوال ہے جس طرح رسالوں میں ہے تو پھر ان کتابوں کی اشاعت کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے۔اگر آپ نے شائع نہیں کر نہیں تو مثلاً ھدایہ جو فقہ کی مشہور کتاب ہے اور حدیث کی ساری کتابیں تو گئیں۔پھر تو صحیح بخاری شائع نہیں ہوگی کیونکہ اس میں قرآن کریم کی آیات لکھی گئی ہیں۔اسی طرح حضرت سیّد عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ کی کوئی کتاب شائع نہیں ہو گی علی ہذا القیاس اللہ تعالیٰ کے وہ سینکڑوں ہزاروں محبوب بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے خود معلم بن کر قرآن کریم کے رموز و اسرار سکھائے تھے ان کی کتابوں کی اشاعت بند ہو جائے گی۔تجویز پیش کنندہ کہتے ہیں ورق پھٹ جاتے ہیں ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں تو آیات کی بے حرمتی ہوتی ہے۔اس لئے قرآنِ کریم کی آیات نہیں چھپ سکتیں لیکن جس طرح بخاری شریف کے اوراق جن پر قرآن کریم کی آیات ہوں وہ پھٹ سکتے ہیں اور بکھر سکتے ہیں اور تمہارے نزدیک بے حرمتی ہوتی ہے اسی طرح قرآنِ کریم مترجم کے اوراق بھی پھٹ سکتے ہیں اور بکھر سکتے ہیں اور تمہارے نزدیک اُن کی بے حرمتی ہوتی ہے تو اس واسطے قرآنِ کریم مترجم کی اشاعت بھی بند ہونی چاہیے یعنی اگر غلطی کی حد تک اس نا معقول تجویز پر عمل کیا جائے تو پھر یہی مشکل بنتی ہے پھر تو سب سے زیادہ مشکل ہو جائے گا۔خود قرآنِ کریم کا متن شائع کرنا کیونکہ قرآنِ کریم کا ترجمہ تو عام طور پر بڑی عمر کے آدمی کے ہاتھ میں نظر آتا ہے مثلاً آٹھویں نویں کا طالبعلم ہے اور سمجھدار ہے یا کالج کے طلباء ہیں یا دوسرے پڑھے لکھے لوگ قرآن کریم کو ترجمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔اگر ان سے بے احتیاطی ہو سکتی ہے تو ایک بچہ جو پہلی جماعت میں پڑھتا ہے اور اس نے قرآنِ کریم ناظرہ پڑھنا شروع کیا کیا اس سے بے احتیاطی نہیں ہو سکتی؟ اس سے بھی بعض دفعہ قرآنِ کریم پھٹتا ہے کیونکہ بچہ بچہ ہی ہوتا ہے خود مجھ سے بچپن میں قرآن کریم پڑھتے وقت دو تین قرآن کریم کے کئی