خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 515 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 515

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۱۵ خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء کرنی ہے اور جیسا کہ میں نے اعلان کیا تھا کہ میں علی وجہ البصیرت (انسان ہوں اس لئے غلطی کر سکتا ہوں ) اس یقین پر قائم ہوں کہ جب ہم دوسری صدی میں داخل ہوں گے تو جماعت احمدیہ کی زندگی کی یہ دوسری صدی غلبہ اسلام کی صدی ہو گی۔اس دوسری صدی میں ہم غلبہ اسلام کے اتنے زبر دست جلوے دیکھیں گے کہ ان کے مقابلے میں پہلی صدی ہمیں یوں نظر آئے گی کہ گویا ہم نے غلبہ اسلام کے لئے تیاری کرنے میں سو سال گزار دیئے۔دوسری صدی میں ہم کہیں گے کہ پہلی کوششوں کے نتائج اب نکل رہے ہیں۔جو باغ پہلی صدی میں لگایا گیا تھا اب ہم اس کا پھل کھا رہے ہیں۔گویا دوسری صدی میں اسلام غالب آ جائے گا اور اس کے بعد کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے علاقے ایسے رہ جائیں گے جن میں اسلام کی تبلیغ کا کام کرنا پڑے گا۔تاہم اُس وقت ایک بڑا کام جو باقی رہ جائے گا وہ ہر نسل کی تربیت کا کام ہوگا۔خدا کرے اس وقت تک کہ جب کافروں پر قیامت آنا مقدر ہو سو سال تو نہیں پانچ سو سال بلکہ ہزار سال تک احمدیت کی ایک نسل کے بعد دوسری نسل پوری تربیت یافتہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والی بن جائے۔اب بند اور دریا کا جو تعلق ہے وہ واضح ہو چکا ہے یعنی اگر بند نہ باندھے جائیں تو پانی کی رفتار میں تیزی نہیں پیدا ہوگی جس طرح ایک ہوا خوری کرنے والا آدمی خراماں خراماں چلتا ہے اسی طرح دریا کا پانی بھی آہستہ آہستہ بہتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے جو پانی کی شکل ہے وہی روحانی طور پر رفعتوں کی طرف روحانی حرکت کی حالت ہے اگر روحانی بند نہ باندھے جائیں تب بھی جماعت ترقی تو کرے گی لیکن بہت آہستہ آہستہ ترقی کرے گی لیکن جس طرح دریاؤں کو بند باندھنے سے پانی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے مختلف نہریں نکالنے کی سہولتیں میسر آتی ہیں۔لاکھوں کلو واٹ بجلی مہتا ہوتی ہے اسی طرح روحانی طور پر بھی مختلف منصوبے (جنہیں میں روحانی بند کہتا ہوں) بنائے بغیر تیزی اور شدت نہیں پیدا ہو سکتی لیکن اگر دریا میں بھی پانی نہ ہو تو بند باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں بند کا فائدہ تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ دریا میں پانی ہو اُسے ایک خاص جگہ پر روک کر اکٹھا کیا جائے اور پھر بلندی سے نیچے گرا کر اس میں غیر معمولی تیزی پیدا کی جائے اور اس سے کئی فوائد