خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 512 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 512

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۱۲ خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء ہے اور انسان نے اس سے Tunnels کے ذریعہ بے تحاشا بجلی پیدا کر لی ہے اسی طرح روحانی Dam کے نتیجہ میں طاقت Generate پیدا ہوتی ہے اور وہ انسان کو انفرادی لحاظ سے بھی اور الہی سلسلوں کو اجتماعی طور پر بھی بڑی تیزی کے ساتھ بلندی کی طرف لے جاتی ہے۔ہمارے عام بجٹ کی مثال اس پانی کی ہے جو آہستہ آہستہ نشیب کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ہمارا بجٹ جماعت احمدیہ کو آہستہ آہستہ بلندی کی طرف لے جارہا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ دو سے پانچ روپے بن گئے میں یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو جن برکتوں سے نوازتا ہے وہ اسے معمول کے مطابق بلندی کی طرف لے جانے والی ہیں اور اُسے بہر حال نا کام نہیں ہونے دیتیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ فرائض کیا ہیں؟ آپ نے بتائے تو اس نے کہا۔میں نہ اس فرائض کو چھوڑوں گا (وَلَا اَنْقُصُ ) اور نہ نوافل پڑھوں گا (لا آزید ) آپ نے فرمایا اگر یہ شخص اس بات پر قائم رہا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا کیونکہ ایمان اور قربانی کا ایک عام معیار جو ہے اُس پر قائم ہونے کی وجہ سے وہ جنت کا حقدار ہو گیا ہے لیکن ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم سب سے کم نمبر لے کر تھر ڈ ڈویژن میں پاس نہ ہوں جولڑ کا سب سے کم نمبر لے کر پاس ہوتا ہے اس کی بھی یہ خواہش نہیں ہوتی کہ وہ تھرڈ ڈویژن لے کیونکہ انسان کے اندر بلندیوں اور رفعتوں کے حصول کی خواہش پیدا کی گئی ہے اور انسان کو بلندیوں اور رفعتوں کے حصول کی طاقت عطا کی گئی ہے۔وہ اپنی معمول کی حرکت کے مطابق بھی بلندی کی طرف بڑھتا ہے اور وہ بند بھی باندھتا ہے تا کہ اس کی حرکت میں اور تیزی پیدا ہو جائے۔ہماری جماعت کے ایک تو عام چندے ہیں چندہ عام ہے، چندہ وصیت ہے، چندہ جلسہ سالانہ ہے یہ عام چندے ہیں جن کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے روحانی لحاظ سے بلند سے بلند تر ہورہی ہے لیکن بلندی کی طرف اس کی حرکت میں اتنی تیزی نہیں جتنی روحانی بند باندھنے کے ساتھ آنی چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ میں نظام خلافت قائم فرمایا۔خلیفہ وقت کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ روحانی بند (Dam) بنائے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ