خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 504

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۰۴ خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۷۴ء اس میں حق کے بیان کرنے کی کیفیت ہو اور اُس کے جوارح میں اعمالِ صالحہ بجالانے کی طاقت ہو۔تو ان تین چیزوں کا نام اسلامی اصطلاح میں ایمان رکھا گیا ہے۔پس میں بتا رہا ہوں کہ اصل چیز اور جڑ دلی کیفیت ہے اور اللہ نے رسول پر جو نازل کیا اُس پر وہ ایمان لائے ہیں یعنی اُس کے متعلق مومنوں کی دلی کیفیت اُسے قبول کر رہی ہوتی ہے (اس کے تین پہلو میں بتا رہا ہوں ) ایک شریعت کا پہلو ہے ایک عام تعلیم کا پہلو ہے اس میں دنیوی تعلیم بھی آجاتی ہے ایک بشارتوں کا نزول ہوتا ہے رسول پر۔مثلاً حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی گئی کہ اسلام اب قیامت تک کے لئے قائم رہے گا۔یہ ایک بشارت ہے جو اسلامی شریعت نے اسلامی ہدایت نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اُس وحی نے ہمیں دی مثلاً ہمیں یہ بشارت دی گئی کہ تمام دُنیا اُمتِ واحدہ بن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے مہدی معہود کے زمانہ میں جمع ہوگی۔یہ ایک عظیم بشارت ہے پھر اس عظیم بشارت کا ایک پہلو یہ ہے کہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب اسلام کو انتہائی کامیابی اور آخری غلبہ حاصل ہو جائے گا تو جو اُس وقت بھی مسلمان نہیں ہو سکیں گے اُن کی مثال ایسے ہی ہوگی جیسے کسی ملک میں چوہڑوں چماروں کی ہوتی ہے کہ شاید وہ ہزار میں سے ایک ہوتا ہے۔وہ محروم رہتا ہے۔بدقسمت ہوتا ہے لیکن اتنی بھاری اکثریت دوسروں کی ہوتی ہے کہ اُس ملک کے باشندے چو ہڑوں اور چماروں کو کسی شمار میں نہیں لاتے یہی حالت مسلم اور غیر مسلم کی ہو جائے گی۔اتنا غلبہ حاصل ہوگا۔ہمارے ایمانوں کو تازہ کرنے کے لئے اس کی آگے شاخیں ہیں۔اور ہمارے دلوں میں ایک قوت پیدا کرنے کے لئے ہمیں ان خطہ ہائے ارض کے متعلق کہا گیا بڑے بڑے مخالف علاقے جو تھے جہاں اسلام کے لئے کوئی میدان نہیں تھا نہ داخل ہونے کا نہ کامیاب ہونے کا۔مثلاً رشیا (Russia) ہے کہہ دیا گیا۔وہ رشیا جو کمیونسٹ (Communist) ہے جس نے اعلان کیا تھا کہ میں زمین سے خدا کے نام کو اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹا دوں گا۔اُس ملک