خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 502

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۰۲ خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۷۴ء تینوں طاقتوں کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ نے انسان بنایا۔ان میں بنیادی قوت دل کی طاقت ہے اور یہ تصدیق کی تحقیق کی موافقت کی یا عدم موافقت اور انکار کی طاقت ہے۔یہ ان تین طاقتوں کا اصل اور جڑ ہے۔اگر فطرت کی حقیقت کچھ اور ہو اور انسان کے دل کی حقیقت کچھ اور ہوا گر یہ کیفیت ہو اور اسی کے مطابق بیان کی قوت بھی دل کے ساتھ چل رہی ہو یعنی تکذیب کا اعلان کرنا اور عمل کی قوت بھی ایسے کافرانہ دل کی کیفیت کے ساتھ مطابقت کھاتی ہو یعنی عمل غیر صالح صادر ہونا تو اس کو اسلامی اصطلاح میں گفر کہتے ہیں۔مگر دل کی اس کیفیت کی صرف یہ شکل نہیں بنتی بلکہ یہ شکل بھی بنتی ہے کہ دل انکار کر رہا ہے اور زبان اقرار کر رہی ہے جیسا کہ قرآنِ کریم نے فرمایا کہ منافق کہتے ہیں إِنَّكَ لرسول اللہ کہ تو اللہ کا رسول ہے۔حقیقت یہی ہے۔وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ (المنافقون: ٢) حقیقت یہی ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے لیکن منافق کا ذب ہے جھوٹا ہے یعنی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے بھی وہ اس لئے جھوٹا ہے کہ اصل چیز انسان کو جو دی گئی وہ ایک قلب سلیم تھا۔جب قلب سلیم نہ رہا اور دل گفر کی طرف مائل ہو گیا اور ظاہری حالات میں زبان نے اس کافرانہ دل کا ساتھ نہ دیا تو یہ ایمان نہیں بلکہ نفاق ہے۔ایک تو یہ حقیقت ہے ایسے انسان کی حقیقت جس کے دل نے حق سے موافقت نہیں کی اور حق کی تصدیق نہیں کی اور حق کو قبول نہیں کیا اور حق کو اپنایا نہیں کا فر بن گیا یا منافق بن گیا لیکن جس غرض کے لئے ان طاقتوں کو پیدا کیا گیا تھا وہ یہ نہیں تھی کہ انسان گفریا نفاق کی راہوں کو اختیار کرے۔وہ حقیقت یہ تھی کہ انسان کے اندر دنیا کے کفر اور نفاق کی جو Temptation یعنی میلان ہے اس کو دھتکارے خدا کی خوشنودی کے لئے اور اپنے ایمان اور ایثار کی رفعتوں کے لئے اور اپنی روحانی پرواز کا مظاہرہ کرے اور فرشتوں سے آگے جائے جس طرح اُسے کافر ہونے کی حیثیت میں قرآن نے کہا کہ زمین کی طرف جھک گیا۔اس لئے کہ اُسے زمین کی گہرائیوں میں دھنسنے کی طاقت دی گئی تھی۔اگر وہ زمین کی طرف نہ جھکے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف اُس کی توجہ ہو وہ خالصتاً اُسی کا ہو جائے تو پھر وہ آسمانوں کی اُن بلندیوں کو چھوتا ہے جہاں تک فرشتوں کو پہنچنے کی تاب نہیں اُن سے بڑھتا ہے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو وہ حاصل کرتا ہے۔پس جو طاقتیں انسان کو دی گئیں ان میں دو پہلو ر کھے گئے۔ایک تکذیب کا اور ایک