خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 480
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۸۰ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۷۴ء سے بعض وضاحتیں اس وقت میں کرنا چاہتا ہوں۔مثلاً ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میری عمر اس وقت ۷ ۷ سال ہے اور وعدوں کی ادائیگی کا پھیلا ؤ پندرہ سال سے کچھ زائد عرصہ پر ہے تو بظاہر تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اتنا لمبا عرصہ میں زندہ رہوں ویسے اللہ تعالیٰ فضل کرے اور عمر دے تو اور بات ہے لیکن ستتر سال میں پندرہ جمع کریں تو ۹۲ سال ہوتے ہیں لیکن اس ملک میں تو ۷۰ یا اتی سال بڑی عمر سمجھی جاتی ہے تو انہوں نے یہ سوال کیا کہ اگر میں پندرہ سال کا وعدہ کروں اور میری وفات ہو جائے تو کیا مجھے گناہ ہو گا؟ یا میری وفات کے بعد وعدہ کی وہ ذمہ داری میری اولاد پر پڑ گئی اور اس نے غفلت برتی تو کیا اس پر گناہ ہو گا حالانکہ اولا د نے تو وعدہ نہیں کیا ہوگا۔وعدہ تو اُنہوں نے اپنا کیا ہے؟ پس ایک تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک زندگی اور موت کا سوال ہے پانچ سالہ بچہ بلکہ ایک دن کے بچے سے بھی موت اتنی ہی قریب ہے جتنی ۷۷ سال کے بوڑھے سے قریب ہے۔زندگی اور موت تو ہمارے اختیار میں نہیں اس لئے عام طور پر ہم اخلاص کی وجہ سے یہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور اتنی زندگی مل جائے گی لیکن کوئی شخص یقین نہیں رکھتا۔ایک پل کا یقین نہیں ہوتا تو پندرہ سال تو بے شمار پلوں کا مجموعہ ہے۔لیکن بعض ۹۰ یا ۹۵ سال کی عمر کے ہیں یا بعض ایسے مریض ہیں مثلاً ایک سل کا مریض ہے۔یہ بیماری ایسی ہے کہ وہ بظاہر زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا باقی اللہ تعالیٰ سب قدرتوں کا مالک ہے اُس کی قدرتوں میں تو کمی نہیں ہے لیکن بظاہر حالات خدا تعالیٰ کا جو قانون چلتا ہے وہ ڈاکٹروں کے نزدیک یہی ہے کہ ایک سل کے مریض کو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ چالیس سال تیری عمر ہے کئی لوگوں کی عمر ڈاکٹروں کے کہنے کے خلاف اس سے بڑھ بھی جاتی ہے یا پھر کینسر کا مریض ہے۔یہ حالات استثنائی حالات ہیں ان صورتوں میں کہ مثلاً کینسر کا مریض ہے یا مثلاً اسی سال عمر کا ہے اس صورت میں ایک راہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ یہ وعدہ کرے کہ میں اپنی آمد کے لحاظ سے سولہ سال کا یہ وعدہ کرتا ہوں اور میں یہ وضاحت کر دیتا ہوں کہ اگر کوئی دوست فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی اولاد پر ذمہ داری نہیں پڑتی۔دوسرے یہ کہ اگر وہ فوت ہو جاتے ہیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) لیکن جو مخلص دل ہے میرے نزدیک ایک مخلص دل کو یہ کرنا چاہیے کہ ہر سال کا یہ طوعی چندہ جو