خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 461

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۶۱ خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۷۴ء ہیں اُن کی تعداد بے شک کم ہی ہو کیونکہ یہ اصل میں تو اُن کے لئے ہے جن پر نماز فرض ہو گئی وہ سات بار پڑھیں اور جو اپنی عمر کے لحاظ سے ایسا ہے جس پر نماز فرض نہیں ہوئی وہ اپنی طاقت کے مطابق جس کا فیصلہ اُس کے نگران یا ماں باپ یا بڑے بھائی نے کرنا ہے اگر وہ اس گھر میں ہے اور ماں باپ کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔اگر تیس لاکھ آدمی سات بار سورۂ فاتحہ روزانہ پڑھیں تو جماعت کی مجموعی مالی قربانی کے فی روپیہ کے مقابلہ میں سورۂ فاتحہ کی ایک سو اٹھائیس مرتبہ تلاوت ہوگی یعنی فی پیسہ کے مقابلہ میں ایک دفعہ سے زائد سورہ فاتحہ جیسا عظیم اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھے اور اس دعا کے ساتھ ، بڑی عجیب دعا ہے کہ اے خدا! پیسہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا مگر تیرے اس عظیم کلام کے صدقے سے ہم تجھ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے دھیلے میں تو برکت ڈال اور اس کے وہ نتائج نکال جو آج ہم کمزور بندے چاہتے ہیں کہ نکلیں اور اسلام ساری دنیا پر غالب آئے۔یہ ذکر کا الف حصہ ہے۔ب۔دوسری بات جو میں چاہتا ہوں کہ اتنی تعداد میں احمدی تسبیح و تحمید اور درود پڑھنے والے ہوں اور اگر تیس لاکھ احمدی تینتیس بار سُبحَانَ اللَّهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ - موجودہ جو دور وہ کر رہے ہیں اس کے علاوہ تینتیس بار پڑھیں تو فی روپیہ جو ہم اللہ کے حضور پیش کر رہے ہوں گے تو اس کے مقابلہ میں اُس روپیہ میں برکت کی خاطر سات سو ستائیس دفعہ تسبیح تحمید اور درود پڑھ رہے ہوں گے۔یہ نو کروڑ کے حساب سے ہے ورنہ ساڑھے چار کروڑ روپے اگر ہوں تو یہ چودہ سو سے او پر فی روپیہ ہو جائے گا۔اصل روپیہ نہیں اصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتے ہوئے اور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہوئے آسمانی برکات کے حصول کی کوشش کی جائے تاکہ ہمارا یہ منصوبہ کامیاب ہو۔پس تسبیح وتحمید اور درود جیسا کہ میں نے ابھی خطبہ کے شروع میں پڑھا تھا اور پہلے بھی بڑی تعداد میں یہ پڑھا جا تا رہا ہے لیکن اب میں نے بتایا ہے کہ سب کچھ سوچ کر تعداد میں نے تھوڑی رکھی ہے کیونکہ بہت سی دُعا ئیں اس کے اندر آ گئیں۔تینتیس بار سُبحَانَ اللَّهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ - پڑھنا ہے۔