خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 446
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۶ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۷۴ء 66 جائیں ذکر کے حکم کے ماتحت لوگوں کے دلوں میں بشاشت پیدا کی جائے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق اور جماعت کو اُن کی قربانیوں اور ایثار کی طرف توجہ دلائی جائے حکمت کے ساتھ اور اسی طرح انہوں نے خدا کی راہ میں جو تکالیف برداشت کرنی ہیں وہ بھی ان کے سامنے لائی جائیں اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو بشارتیں دی ہیں وہ بھی اُن کو بتائی جائیں تا کہ دل میں بشاشت اور انشراح صدر پیدا ہو۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک عظیم مہم ہے جو آسمانوں سے چلائی گئی ہے۔یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا نہ احمدیت کے باہر کوئی اس کا تصور کر سکتا ہے اور نہ احمدیت کے اندر خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی اس کا تصور کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم منصو بہ بنایا اور اس نے جماعت احمد یہ جیسی کمزور جماعت کو کھڑا کر کے کہا کہ میں تجھ سے یہ کام لوں گا۔غلبہ اسلام کا یہ منصوبہ اتنا بڑا منصوبہ ہے کہ نوع انسانی میں اتنا بڑا اور کوئی منصوبہ نہیں ہے اس لحاظ سے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نوع انسانی کے لئے جن برکات کا سامان پیدا کیا گیا تھا ان برکات کو ہر فرد بشر تک پہنچانا ہے اور کامیابی کے ساتھ ان کے دل کو جیتنا ہے یعنی یہ وہ منصوبہ ہے جس کی ابتدا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود سے ہوئی اور جس کی انتہا بھی آپ ہی کی قوت قدسیہ اور روحانی برکات کے ساتھ مہدی معہود کے ذریعہ مقدر ہے۔پس یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جو دنیا میں تبلیغ اسلام اور اشاعت قرآن کے لئے جاری کیا گیا ہے۔انسان جب اس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا سر چکرا جاتا ہے۔اگر ہمیں خدا تعالیٰ کا پیار نہ ملتا اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو اپنی زندگیوں میں مشاہدہ نہ کرتے اور اگر ہمارے دماغ میں یہ خیال نہ ہوتا کہ ہم دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت ہی سے جیت سکتے ہیں تو ہم بھی خود کو پاگل سمجھنے لگتے لیکن اللہ تعالیٰ کے جس پیار کے نمونے ہم نے اپنی زندگیوں میں خود اپنے وجود میں مشاہدہ کئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اور اس علم حقیقی کے حصول کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام قدرتوں کا مالک ہے اور تمام خزانوں کا مالک ہے اور حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ اپنے حکم پر اور اپنے امر پر غالب ہے۔ہم اس علم ومعرفت