خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 442

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۲ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۷۴ء اور ایثار کا انتظار کر رہی ہیں کہ کب ہم عاجزانہ قربانی اور ایثار کے ساتھ اُس کے حضور جھکتے اور اس سے اس کی رحمتوں کو حاصل کرتے ہیں۔غرض وہ لوگ جن کی ماہانہ بندھی ہوئی آمد ہے وہ ماہانہ کے حساب سے ادا ئیگی کریں گے تا کہ اُن کو بعد میں پریشانی لاحق نہ ہو۔پس یہ قاعدہ تو ان لوگوں سے متعلق ہے جن کی ماہوار آمد بندھی ہوئی اور مقرر ہے لیکن باقی لوگ جن کی آمدنیوں کے ذرائع اور طریق مختلف ہیں اُن کے متعلق بھی اصولاً یہی قاعدہ ہو گا کہ وہ ہر سال اس سال کا جو حصہ بنتا ہے وہ ادا کر دیں گے لیکن چونکہ اس مالی منصوبہ کے لئے پورے سولہ سال نہیں بلکہ پندرہ سال اور کچھ مہینے ہیں اس لئے پہلے دو سال کا جو وعدہ ہے وہ دو سال کی نسبت سے یعنی گل و عدہ کا ۱۱۸ حصہ ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء سے پہلے ادا ہو جانا چاہیے اور اس کے بعد دوست سال بسال عام قاعدے کے مطابق ادا کریں گے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک تو ماہ بماہ ادا کرنے والے ہوں گے اور دوسرے دیہات میں بسنے والے زمیندار اور بعض دوسرے لوگ بھی ہوں گے جن کی رہائش دیہات میں ہے، ان کی آمد عام طور پر ششماہی کے حساب سے ہوتی ہے ( یعنی سال میں دو بار آمد ہوتی ہے ) اگر وہ خیال کریں کہ سال میں آمد کے دو موقعوں پر ادا کریں گے تو اس لحاظ سے ۱/۳۲ ہو جائے گا۔گویا وہ ہر آمد یا ر فصل کی پیداوار کے موقع پر ۱۱۳۲ اور ہر سال ۱/۱۶ ادا کریں گے سوائے پہلے سال کے جس میں انہوں نے چار فصلوں کی آمد کے لحاظ سے اپنے وعدے کا ۱/۱۶ ادا کرنا ہے۔ان کے علاوہ تاجر پیشہ لوگ ہیں ، ڈاکٹر ہیں ، وکیل ہیں، انجینئر ہیں اور صنعت کار ہیں ان کی نہ معین ماہوار آمد ہے اور نہ قریباً معین ششما ہی آمد ہے مثلاً ڈاکٹر ہے کسی ماہ اُسے زیادہ فیس مل جاتی ہے کسی ماہ اُسے کم فیس ملتی ہے۔اسی طرح آزاد انجینئر ہے، وکیل ہے، تاجر ہے اور صنعت کار ہے ان کی بندھی ہوئی یا مقررہ آمدنی نہیں ہوتی بلکہ ان کی آمد میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ان کی آمد ایک خاص حد کے اندر گرتی بڑھتی رہتی ہے۔کبھی کم ہو جاتی ہے اور کبھی زیادہ ہو جاتی ہے۔تاجروں کے لئے مختلف موسم ہیں جو مختلف وقتوں میں آتے ہیں۔پس میں ان ( تاجروں، ڈاکٹروں، وکیلوں ، انجینئروں اور صنعت کاروں ) سے یہ کہوں گا کہ