خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 441

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۱ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۷۴ء جیت لئے جائیں اس لئے اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے تو یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ اشاعت اسلام کے اس عظیم منصوبہ کے لئے سولہ سال میں پانچ کروڑ سے بھی زائد رقم اکٹھی ہو جائے۔جہاں یہ بڑی خوشی کی بات ہے وہاں ان ممالک کی تعداد پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمارے لئے فکر کے لمحات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ ابھی دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں ہماری منظم جماعتیں اور مشن قائم نہیں ہوئے۔اسی لئے اس منصوبے کے ایک ابتدائی حصے کی رُو سے یہ تجویز تھی کم از کم سوز بانوں میں (یعنی دنیا کے مختلف ملکوں میں بولی جانے والی مختلف سوز بانوں میں ) اسلام کی بنیادی تعلیم کے تراجم کر کے بیرونی ملکوں میں کثرت سے اشاعت کی جائے اور اس ذریعہ سے وہاں کے باشندوں کی تربیت و اصلاح اور ان کو اسلام کی طرف لانے کی کوشش کی جائے۔وو صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ میں اب تک جو وعدے ہوئے ہیں ان کے متعلق باہر سے خطوط کے ذریعہ دوست پوچھتے رہتے ہیں کہ ان کی ادائیگی کا کیا طریق اختیار کرنا چاہیے۔کیا وہ ہر سال کا اپنا سولہواں حصہ دیں یا کوئی اور شکل ہو۔چنانچہ میں اس بارے میں سوچتا رہا ہوں اگر چہ قانون تو اندھا کہلاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو تو سوجا کھا اور صاحب بصیرت اور صاحب بصارت بنایا ہے۔میں نے سوچا کہ مختلف شکلوں میں لوگوں کو روپیہ ملتا ہے یعنی آمدنی کی شکلیں مختلف ہیں۔انسانوں کا ایک گروہ تو وہ ہے جس کے ہر فرد کی ماہانہ آمد بندھی ہوئی ہے مثلاً کہیں نوکر ہیں یا مزدور ہیں اس لئے نوکری کی تنخواہ یا مزدوری کے علاوہ کوئی اور ذریعہ آمد نہیں ہے۔ایک معین رقم ہے جو ہر ماہ ان کو مل جاتی ہے اور بس۔ایسے لوگوں سے تو میں یہ کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو جتنی بھی توفیق عطا فرمائی ہے اور انہوں نے اس کے مطابق اس فنڈ میں وعدے کئے ہیں وہ اپنے وعدہ کو سولہ پر تقسیم کر دیں۔اس طرح ہر سال کا جو حصہ بنے گا اُسے وہ سال کے بارہ مہینوں پر تقسیم کر کے ماہ بماہ اپنا وعدہ دیتے چلے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ اُن کے مال میں برکت ڈالتا چلا جائے گا۔اس طرح شاید ان کو اس سے زیادہ دینے کی توفیق مل جائے جتنا وہ آج سمجھتے ہیں کہ وہ دے سکتے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی ذات عزّ و جلّ سب خزانوں کی مالک ہے۔اس کی رحمتیں ہماری قربانیوں