خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 413
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۱۳ خطبه جمعه ۲۸ /دسمبر ۱۹۷۳ء کا سیاق و سباق تک بتا دیتے ہیں گویا کہ سارے کا سارا قرآن کریم ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے اور ذہن میں ستحضر رہتا ہے۔پس اس کثیر فوج کی موجودگی میں جو ہر صدی میں لاکھوں کی تعداد میں تھی کسی معاند اور مخالف اسلام کو یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ قرآن کریم میں تحریف لفظی کر سکے اور نہ ہی مسلمانوں میں سے کسی غافل یا نا سمجھ آدمی کو یہ جرات ہوئی کہ وہ قرآن کریم میں کوئی لفظی تحریف کر سکے۔بعض نا سمجھ لوگوں نے بعض دوسری قسم کی حرکتیں کیں۔جو ہماری مذہبی کتابوں میں اور اسلامی لٹریچر میں محفوظ ہیں۔یہ آج کی باتیں نہیں بلکہ صدیوں پرانی باتیں ہیں کہ بادشاہوں کو خوش کرنے کے لئے بعض لوگوں نے احادیث وضع کرلیں جنہیں ہماری اصطلاح میں وضعی حدیثیں کہتے ہیں لیکن قرآن کریم کے نزول سے لے کر آج تک کسی شخص نے کامیابی کے ساتھ کوئی قرآنی آیت وضع نہیں کی۔انسان کی بنائی ہوئی کوئی ایسی آیت نظر نہیں آتی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان کے باوجود انسانی دماغ نے آپ کی طرف غلط روایتیں منسوب کرنے کی جرات تو کر لی لیکن حفاظ کے ذریعہ قرآن کریم کی لفظی حفاظت کا یہ کمال تھا کہ امت محمدیہ کے اندر اور باہر کوئی شخص قرآن کریم کی طرف غلط آیت منسوب کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔اگر دشمنانِ اسلام نے کبھی کوئی جرات کی بھی تو لاکھوں کی تعداد میں حفاظ کی یہ فوج فوراً گرفت کرتی تھی کہ یہ تم کیا کر رہے ہو۔بہر حال تحریف لفظی کی ایسی کامیاب جرأت کہ جسے دنیا میں پھیلا یا جا تا ہو نظر نہیں آتی۔پس ایک تو قرآن کریم کی لفظی حفاظت کا سوال تھا جسے انسان کی قوتِ حافظہ کے ذریعہ حل کیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے لاکھوں حفاظ کے ذریعہ قرآن کریم کی لفظی حفاظت کے سامان پیدا کر دیئے لیکن انسان کو صرف قوت حافظہ ہی تو نہیں دی گئی اسے دوسری قو تیں بھی عطا کی گئی ہیں۔جن میں سے ایک روحانی قوت ہے اور اس کے ذریعہ قرآن کریم کی تین اور قسم کی حفاظت بھی کی گئی ہے۔چنا نچہ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔وو ” دوسرے ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے۔جنہوں نے قرآن شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر