خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 402
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۰۲ خطبہ جمعہ ۱۴ /دسمبر ۱۹۷۳ء کو جھنجھوڑنے والی ہوتی ہے وہ ظاہر ہو جائے گی۔پس انداری پیشگوئیاں جہاں تو بہ، دعا، استغفار اور صدقات کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں، وہاں بشارتیں بھی مشروط ہوتی ہیں ان قربانیوں اور ایثار اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ جس کا بشارتیں تقاضا کرتی ہیں اور انسان کے اس یقین کے ساتھ جو اسے ان بشارتوں کے پورا ہونے پر ہوتا ہے یہ انسان کا یقین ہی ہے جس کے نتیجہ میں انسان اپنی قربانیاں اور ایثار خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اگر میرے بندے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبا ہیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک اور قوم کو پیدا کرے گا جو اس کی عظمت کی معرفت رکھنے والی اور اس کی بشارتوں پر یقین رکھنے والی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کی بشارتوں پر اسے ایک ایسا کامل یقین ہوگا کہ خدا کی راہ میں اس سے جو بھی مطالبہ کیا جائے گا وہ اسے پورا کرے گی۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ ہر پاکیزگی یقین ہی کی راہ سے آتی ہے۔اگر انسان کو یقین نہ ہو تو وہ خدا کی راہ میں قربانیاں نہیں دے سکے گا۔اگر اسے خدا تعالیٰ پر کامل یقین نہ ہو تو دینی ذمہ داریوں کے نباہنے کی طرف اسے توجہ نہیں ہوگی۔اگر خدا تعالیٰ کی ہستی کا انسان کو یقین نہ ہو تو عبادت نہیں ہوگی یا عبادت میں وہ خلوص نہیں ہوگا جو عبادت کی روح رواں ہوتا ہے بالفاظ دیگر یقین نہ ہو تو عبادت نہیں ہوگی یا عبادت میں وہ رنگ پیدا نہیں ہوگا جو عبادت کی اصل غرض ہے اور جس سے انسان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا کے حضور کھڑا ہے اور وہ اسے دیکھ رہا ہے یا کم از کم اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے علم نے ہر چیز کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔اس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے جب انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی ہستی پر پختہ یقین پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ اس کا کوئی فعل اور کوئی حرکت خدا سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تو پھر انسان گناہوں سے بچتا ہے اور اخلاص کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور جذبہ قربانی کے ساتھ خدا کی راہ میں ہر آواز پر لبیک کہتا ہے۔خدا کی راہ میں اس سے جس چیز کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے وہ اسے پورا کرتا ہے گویا جس رنگ