خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 390
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۰ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کوشش کریں اور ہمت کریں تو یہ بھی تین یا چار سونے کے کمروں والے مہمان خانے اپنی تنظیم کے ماتحت ایسے بنا سکتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر یا بعض دیگر ضروریات کے مواقع پر انہیں بھی سلسلہ کے کاموں کے لئے استعمال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ رضا کاروں کی ضرورت ہے جو سال بہ سال بڑھتی چلی جارہی ہے۔سال بہ سال آبادی میں بھی اضافہ ہورہا ہے لہذا یہ ضرورت پوری ہو جانی چاہیے۔میرے نزدیک رضا کارانہ خدمت کے معیار میں کچھ کمی واقع ہوگئی ہے۔جو معیار احمدی بچوں اور نو جوانوں نے اس زمانہ میں قائم کیا تھا جب ہم بھی بچے تھے وہ معیا راب قائم نہیں رہا۔اُس وقت چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی اور خدمت سمجھی جاتی تھی۔اب تو تقسیم اوقات کر کے رضا کاروں کا ایک حصہ ایک وقت میں دفتر میں کام پر ہوتا ہے اور دوسرا حصہ دوسرے وقت میں کام پر ہوتا ہے۔کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس طور پر جتنے گروہ بنائے جائیں گے اسی نسبت سے زیادہ رضا کاروں کی ضرورت ہوگی اور اتنی ہی ثواب میں کمی واقع ہو جائیگی۔پہلوں نے جو ثواب حاصل کیا آج کا بچہ یا نوجوان وہ ثواب حاصل نہیں کر رہا اس کی فکر کرنی چاہیے۔اسے خود بھی اور اس کے اساتذہ اور ماں باپ کو بھی۔اساتذہ کی بھی ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔والدین کی بھی اور جملہ تنظیموں کی بھی ذمہ داری ہے۔آج کے نوجوانوں کو جب تک ثواب کے زیادہ سے زیادہ مواقع میٹر نہیں آتے رہیں گے تو انہیں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی دن بدن بڑھتی ہوئی عظیم ذمہ داریوں کے نباہنے کی تربیت کیسے حاصل ہوگی۔اگر رضا کار زیادہ تندہی سے کام کریں تو جس کام کے لئے زیادہ تعداد میں نو جوانوں کی ضرورت ہوگی وہی کام کم تعداد ہی انجام دے سکے گی۔بہر حال مہمانوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں کچھ رضا کارایسے دیئے ہیں جو سارا سال ہی ایک اعلیٰ معیار پر دینی کام کرتے رہتے ہیں۔کچھ ایسے بھی رضا کار ہیں جو سارا سال بظاہر توسستی دکھاتے ہیں لیکن جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت چست ہو جاتے ہیں اور بڑی تندہی سے کام کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبول کر کے انہیں یہ جزا بھی دے کہ سارا سال بھی وہ اُونگھنے کی بجائے