خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 19
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۹ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء بیان کیا گیا ہے اور قرآنِ کریم مفسر ہے یعنی قرآنِ کریم کی آیات ایک دوسرے کی مفسر ہیں۔میں نے بتایا ہے اس مضمون سے متعلق دوسری آیات بھی ہیں جو میرے ذہن میں آئیں اور میں نے نوٹ بھی کیں لیکن مجھے لمبا خطبہ دینا نہیں چاہیے۔ڈاکٹری مشورہ تو یہ تھا کہ میں مسجد میں آؤں ہی نہ لیکن میرا دل چار پائی پر لیٹے لیٹے گھبرا گیا کیونکہ دو دن سے زیادہ میں احباب سے ملے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس لئے میں یہاں آ گیا ہوں۔بہر حال اختصار کے ساتھ میں نے اس مضمون کی بعض بنیادی باتیں بیان کر دی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو تفصیل بھی کسی وقت بیان کر دوں گا اور اس اختصار کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی حاکم اپنے زور سے حاکم نہیں بن سکتا اور نہ اسے سیاسی اقتدار اس وجہ سے حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ بڑا عقلمند اور بڑا ہوشیار اور بڑا چالباز ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک منشا ہے جو کافر اور مومن کی زندگی میں یکساں طور پر جاری و ساری ہے اس سے تو ہم آزاد نہیں ہو سکتے۔دوسرے یہ کہ جب حکومت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی تو اختیارات کی تعیین بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونی چاہیے۔انسان کو یہ اختیار نہیں رہتا کہ خود اپنے لئے اختیارات تجویز کرے اور تیسرے یہ کہ اس دنیا کی زندگی اور موت بادشاہ وقت کے ہاتھ میں نہیں اور اس کا یہ حق نہیں کہ کسی کی جان پر یا زندگی پر ڈاکا ڈالے یا وہ لوگوں کے حقوق چھینے یا جو پہلا حق ہے یعنی حرمت حیات انسانی، اس میں دخل اندازی کرے اور نہ اس کا یہ حق ہے اور نہ یہ اس کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں روحانی اصلاح کرے اور بلند مقامات پر لے جائے یعنی یہ موت اور حیات اس کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور چوتھے یہ کہ اندھیروں کا دور کرنا یا اندھیروں کا دور نہ کرنا یعنی مشرق و مغرب کسی حاکم وقت کے اختیار میں نہیں اس واسطے حکومتوں کو مومن و کافر کا فیصلہ کرنے کی بجائے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ان فرائض کی انجام دہی کی طرف توجہ دینی چاہیے جو کہ اس بالا ہستی نے مقرر اور معین کئے اور تفویض کئے ہیں جس نے انہیں صاحب اقتدار بنایا ہے۔جس نے سیاسی اقتدار دیا وہی بتائے گا کہ سیاسی اقتدار سے کام کس طرح لینا ہے اور اس کا مصرف کیا ہے اور انسان کے اپنے ہاتھ میں کچھ نہیں۔انسان تو بڑا کمزور