خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 358
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۵۸ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۳ء نشانہ مقرر کیا ہے اس سال وہ آپ پورا کر دیں۔وہ میں نے آپ کے سامنے ایک آئیڈیل (Ideal) ( مثالی ) چیز رکھی ہے۔اس سال سات لاکھ نوے ہزار روپے کے وعدے ضرور آجانے چاہئیں۔وعدوں کے لحاظ سے آمد قریباً ہر سال ہی زیادہ ہوتی ہے۔اس واسطے اُس کی تفصیل میں میں نہیں جاتا۔آپ سات لاکھ نوے ہزار کے وعدے کریں اور اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے گا اس سے زیادہ قربانیاں اُس کے حضور پیش کرنے کی۔وعدے پیش کرنے اور دفتر میں ریکارڈ کروانے کی آخری تاریخ (۳۱ ر فتح ھش ۱۳۵۲) ۳۱ دسمبر ۱۹۷۳ ء ہے۔اسے نہ افراد بھولیں نہ جماعتیں اسے نظر انداز کریں اور ۳۱ دسمبر تک چالیسویں سال کے وعدے سات لاکھ نوے ہزار تک پہنچا ئیں۔سات لاکھ دس ہزار کے مقابلہ میں اتنی ہزار کا اضافہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ہمت کریں اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے گا۔بعض نے وعدے پیش کر دیئے ہیں۔غالباً بعض جماعتوں کی طرف سے بھی آگئے ہیں۔ہماری آپا صدیقہ صاحبہ (جنہیں آپ اُتم متین کہتے ہیں ) اُنہوں نے ابھی مجھے اپنا وعدہ بڑھا کر اور عزیزہ امتہ العلیم صاحبہ ( بنت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب) کا وعدہ یہاں آتے ہوئے دیا تھا اور بھی بہت سے وعدے ہو جائیں گے لیکن دسمبر کے آخر تک پورے کے پورے وعدے آجانے چاہئیں۔ہمارا وعدوں کا سال نومبر کے اوائل سے شروع ہوتا ہے اور ہماری ادائیگیوں کا سال اپریل کے آخر میں ختم ہوتا ہے۔یہ جو بیچ کا زمانہ ہے اس میں سب وعدے آتے ہیں اور کچھ ادائیگیاں بعض لوگ ہمت کر کے کر دیتے ہیں۔یا جنہوں نے اپنا معمول یہ بنالیا ہے کہ اس عرصہ میں پہلے دے دیں گے۔اور بعض کا معمول ویسے ہی کسی وجہ سے شروع سے یہ بن گیا کہ وہ ادائیگیاں یکم مئی کے بعد کریں گے۔بے خیالی میں اُنہوں نے اپنا معمول یہ بنالیا ہے۔اور پھر ایک سال میں دو سال کے وعدے تو نہیں دے سکتے۔اس لئے اُن کا وہی معمول چل رہا ہے۔بعض لوگ پہلے ہی دے دیتے ہیں۔بہر حال تحریک جدید کا سال نومبر کے شروع میں شروع ہوتا ہے اور اُسی کے چالیسویں سال کی ابتدا کا میں اعلان کرتا ہوں۔اس اعلان کے ساتھ کہ وعدے ۳۱ دسمبر تک سات لاکھ نوے ہزار ہو جانے چاہئیں۔اور اِس اُمید کے ساتھ اور دعاؤں کے