خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 340

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۰ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء خدا تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک مکھی کی صفات کا کوئی انسانی علم احاطہ نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ کی ایک عظیم اور کامل اور مکمل شریعت کے علوم اور اس کے بطون پر انسانی عقل احاطہ کر سکتی ہے یا اس کا علم اپنے دائرہ میں اسے لے سکتا ہے پس اس کا خدا تعالیٰ کے ایک کامل اور مکمل کلام ہونے کے نتیجہ میں ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم میں ہر زمانہ میں نئے نئے بطون ظاہر ہوتے رہیں گے اور قیامت تک قرآنِ کریم کے نئے علوم دنیا کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔اگر ایسا نہیں سمجھو گے تو خدا پر اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن عظیم پر اعتراض کرنے والے ٹھہرو گے۔پس قرآنِ عظیم غیر محدود معارف اور غیر محدود روحانی اسرار کا خزانہ ہے اگر یہ خدا کا کلام ہے تو یہ بات ہمیں تسلیم کرنا پڑے گی اور جب غیر محدود معارف کا خزانہ ہے تو ہر زمانہ میں اس کے نئے سے نئے بطون ظاہر ہو کر کتاب مکنون کا ورق الٹیں گے اور کتاب مبین کا حصہ بنتے 66 چلے جائیں گے۔اور چوتھی چیز اس خیر کے متعلق اصل میں میں بتا رہا ہوں کہ خیر امت جو ہمیں کہا گیا تو اس خیر امت کی بہت سی صفات بیان کی گئی ہیں۔بعض جگہ لفظ ”خیر “ کو استعمال کر کے ، بعض جگہ خیر “ کے معانی کو استعمال کر کے۔دو بنیادی چیزیں ان دو خطبوں میں میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ایک میں نے بیان کی تھی کہ قوی ہونا۔یعنی اُمت مسلمہ کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا چاہیے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ بتاتا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم یہ کہتی ہے کہ غیر اللہ کے سامنے ہم نے ہاتھ نہیں پھیلانا اور جب تک اُمتِ مسلمہ میں اس کی شان کے مطابق یہ صفت پیدا نہیں ہو جاتی اس وقت تک اسلام کی طرف انسان منسوب تو ہوسکتا ہے لیکن اسلام کی عظمت میں انسان حصہ دار نہیں بن سکتا۔وو۔اور دوسرے ”خیر “ کا بنیادی اصل جو ہمیں بتایا گیا ہے وہ ہے قرآنِ کریم کو سیکھنا۔یہ صفت ایسی ہے جو اُمت مسلمہ کو كُنتُم خَيْرَ اُمَّةٍ بناتی ہے۔یعنی خیر امت ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسی امت ہے جو قران کریم میں سے کتاب مبین کو بھی اور کتاب مکنون کو بھی سیکھتی