خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 16
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء ہو جاتی ہے۔واضح تو دوسری بھی ہے ممکن ہے بعض بچوں کو سمجھ نہ آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ دیکھو ! زندہ کرنا اور مارنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں کیا ہے۔جسمانی طور پر بھی کوئی زندگی خدا تعالیٰ کے قانون اور منشا کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتی اور نہ کوئی موت اس کے بنائے ہوئے اصول کے خلاف چل کر واقع ہو سکتی ہے۔اس مخالف نے کہا (اپنی جہالت کے سبب سے وہ سمجھا نہیں ) کہ میں بھی مارتا ہوں اور جو نہیں مرتا وہ سمجھو میری عطا کردہ زندگی ہے نا۔ایسے بے وقوف اور ظالم بھی دنیا میں ہوتے ہیں کہ ہم نے بڑا احسان کیا کہ تیری جان نہیں لی۔دوسرے یہ کہ جسمانی یا روحانی احیاء وامانت اللہ کے اختیار میں ہے۔اس لئے بادشاہ وقت کسی کو زندگی دینے یا اس سے زندگی چھین لینے کی طاقت رکھتا ہے نہ حق ، نہ جسمانی طور پر نہ روحانی طور پر۔پس دنیا کی کوئی سلطنت عقلاً یہ حق نہیں رکھتی کہ فیصلہ کرے کہ کوئی شخص یا جماعت روحانی طور پر زندہ ہے کیونکہ روحانی زندگی زندہ خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق کا نام ہے اس کے بغیر روحانی میدانوں میں انسان کو قوتِ عاملہ عاقلہ حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ پہلے بھی میں نے ایک مضمون میں بتایا تھا۔پس کسی حکومت یا سلطنت کو یہ حق نہیں کہ وہ اعلان کرے کہ فلاں شخص بڑا مومن ہے اور وہ b جنت میں جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُم هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ اتَّقَى (النجم : ٣٣) خدا کہتا ہے میں زندگی دینے والا ہوں اس واسطے میں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو میں نے زندگی دی ہے اور کس کو نہیں دی۔حکومت وسلطنت کا یہ حق نہیں اور جب حکومت اور سلطنت ایمان کی سند اور جنت کا ٹکٹ نہیں دے سکتی تو کسی کو کا فر بھی نہیں کہ سکتی یعنی جب روحانی زندگی کا فیصلہ نہیں کر سکتی تو روحانی موت کا فیصلہ بھی نہیں کر سکتی کیونکہ کفر تو روحانی موت ہے اور ایمان روحانی زندگی ہے۔خدا تعالیٰ قرآنِ عظیم میں کہتا ہے کہ دنیا کی کسی سلطنت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ کسی کو مومن کہے یا کافر کہے یعنی روحانی طور پر زندہ یا مردہ کہے اور اس کے خدا تعالیٰ کی رضا کے حقدار ہونے کا اعلان کرے یا یہ اعلان کرے کہ اس پر خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کے گا۔کسی حکومت کا یہ حق نہیں ہے لیکن لوگ بھی سیاسی اقتدار رکھنے والوں میں بھی ضال اور جاہل ہوتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلہ میں جو حاکم تھا اس کی حکومت چھوٹی سی تھی لیکن اب بڑی بڑی حکومتیں ہیں۔