خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 316 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 316

خطبات ناصر جلد پنجم ٣١٦ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء ہے۔رمضان کے مبارک ایام اور جمعہ کی مبارک ساعتیں ہمیں میسر ہیں اس لئے آج پھر میں احباب جماعت کو بعض دعاؤں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ہماری زندگی کا ویسے تو ہرلمحہ ہی دعا کے غلاف میں لپٹا ہوا اپنے رب کریم کے حضور پیش ہونا چاہیے لیکن اس وقت میں چند خاص دعاؤں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔میں نے اس وقت قرآنِ کریم کی آیت کے جس ٹکڑے کی تلاوت کی ہے اس کے ایک حصے کی طرف ہی توجہ دلاؤں گا اور وہ ہے کُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارے لئے ایسے سامان پیدا کئے گئے ہیں کہ تم تمام امتوں اور جماعتوں سے زیادہ برکت والی اُمت اور خیر والی جماعت بن سکتے ہو اور یہ اس لئے کہ قرآنِ عظیم ایک کامل شریعت کی شکل میں نوع انسانی کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔اس میں اُمتِ مؤمنہ اور اُمت مسلمہ کے لئے روحانی اور دوسری رفعتوں کے سامان بھی بہت زیادہ مہیا کئے گئے ہیں۔پس خَيْرَ أُمَّةٍ میں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ ایک بنیادی چیز ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ تم سے بڑھ کر تم سے بہتر اور تم سے افضل کوئی اور گروہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جس قدر رفعتوں تک پہنچنے کے سامان اُمتِ مسلمہ کو دیئے گئے ہیں اس قدر رفعتوں تک پہنچنے کے سامان پہلی امتوں کو نہیں دیئے گئے تھے۔چنانچہ میں ایک بڑا وسیع مضمون بیان ہوا ہے اور دراصل ساری قرآنی تعلیم ہمیں اسی طرف لا رہی ہے۔تاہم جہاں تک لفظ خیر کا تعلق ہے قرآن کریم میں بعض جگہ اس کے استعمال سے لفظا اور بعض جگہ معنا یہ بتایا گیا ہے کہ خیر امت کی کیا کیا صفات ہونی چاہئیں۔اسی طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی لفظ اور معناً ہر دو لحاظ سے خیر امت کی صفات کے متعلق ہمیں بہت کچھ بتایا گیا ہے۔اس وقت میں خیر کی دو ایسی صفات کی طرف احباب کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں جن میں خیر کا لفظ معنا بھی استعمال ہوا ہے اور لفظاً بھی۔66 چنانچہ خیر امت بننے کے لئے ہمیں ایک یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ ہم اپنی تمام صلاحیتوں