خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 270

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۷۰ خطبہ جمعہ ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء لئے وہاں کی ۳- ۴ لجنات کے علاوہ امام رفیق کی اہلیہ صاحبہ اور اُن کے بچوں نے کھانا تیار کرنے میں بڑا کام کیا۔حفاظت کے خیال سے باہر سے خود چیزیں لے کر آنا اور پھر خود پکا نا بڑا کام تھا۔کوئی باہر کے کھانے والا تحفہ بھی آجائے تو وہ علیحدہ رکھ دیتی تھیں کہ یہ ہمارے گھر کا پکا ہوا نہیں ہے بلکہ فلاں جگہ سے تحفہ آیا ہے۔غرض صبح سے لے کر شام تک ہمارے نوجوان خدام باورچی خانہ میں رہتے تھے پھر اتوار کو تو بہت انتظام کرنا پڑتا تھا۔مثلاً برتنوں کی صفائی وغیرہ۔اگر چہ وہاں یہ سہولت ہے کہ چائے کی پیالی دھونی نہیں پڑتی گتے کی بنی ہوئی ہے جسے لوگ چائے پی کر پھینک دیتے ہیں اور وہ کوڑے کرکٹ میں چلی جاتی ہے لیکن پھر بھی دودھ اور چائے وغیرہ تیار کرنا بڑا کام ہے۔ایک دن پتہ لگا کہ ایک گود کا بچہ آیا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ہمارا خیال تھا کہ شاید اس کو دودھ مہتا نہیں کیا گیا۔میں نے خدام سے کہا کہ تم ایسے بچوں کے لئے دودھ بھی رکھا کرو کیونکہ ایسی مائیں آئیں گی جو اپنے کم سن بچوں کو گھر نہیں چھوڑ سکتیں۔ایسے بچوں کی خوراک کا لنگر میں انتظام ہونا چاہیے پھر بعد میں پتہ لگا کہ دودھ تو تھا لیکن ماں تو اتنی مصروف تھی کہ اسے بچے کو دودھ پلانے کی فرصت نہیں ملی۔وہ اپنے دوسرے دینی کاموں میں اتنی مشغول ہوئی کہ اسے بچے کو دودھ پلانے کا خیال ہی نہ رہا۔چنانچہ بچہ رو رہا تھا اس کے رونے کی وجہ سے میرے علم میں یہ بات آئی کہ بچے کو دودھ نہیں ملا۔بعد میں پتہ لگا کہ ماں کو وقت نہیں ملا دوسرے کاموں میں لگی ہوئی تھی کوئی تقریب تھی یا شاید منصورہ بیگم کی ملاقات تھی۔بہر حال اتنے پیار سے اور اتنی قربانی دے کر ان لوگوں نے کام کیا ہے کہ میں ان کے اخلاص کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا اور اسی لئے میں نے ان فقروں کی ابتدا میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی اُن کو احسن جزا دے۔پھر جہاں تک اُن کی تربیت کا تعلق ہے میں نے اپنے خطبات جمعہ میں ان کو نصائح کیں وہاں ہمارا جلسہ سالانہ 9 ستمبر کو تھا اس میں ان کو نصیحتیں کیں۔۱۰ ستمبر کو ہمارے مبلغین کی کا نفرنس تھی اس میں مبلغین کو سمجھایا۔اسی طرح لجنہ اماء اللہ چھوٹی بچیوں کو پھر خدام الاحمدیہ کو